single photo

کیا آزادی مارچ کا مقصد پورا ہو گیا؟

لاہور (قدرت روزنامہ) سابق وزیراعظم نواز شریف کے بعد ان کی صاحبزادی مریم نواز کو بھی ضمانت مل گئی ہے . لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے .

ضرور پڑھیں: جے یو آئی کے آزادی مارچ میں کنٹینر سے نوجوان کی ہلاکت،رہبرکمیٹی،فضل الرحمان،شہبازشریف ،بلاول و دیگر کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ

نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت حالیہ سیاسی صورتحال میں بہت اہمیت رکھتی ہے.یہ بات تو عیاں ہے کہ نواز شریف نے شروع دن سے ہی مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی حمایت کی. یہاں تک کہ سینئیر صحافی ہارون الرشید نے یہ تک دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے 6ہفتوں کے لیے رہائی دی تھی اُس وقت انہوں نے آزادی مارچ کا منصوبہ بنایا تھا.انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اس وقت دیگر جماعتوں سے مل کر احتجاج اور دھرنے کا منصوبہ بنایا.اور اس کے لیے بے تحاشا پیسہ بھی لگایا گیا. نواز شریف مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کر لے کر اس قدر سنجیدہ تھے کہ جب شہباز شریف نے آزادی مارچ میں پارٹی قیادت سے معذرت کی تو انہوں نے یہ ذمہ داری احسن اقبال کو سونپ دی.

جب کہ مریم نواز بھی والد کی طرح ہی آزاد مارچ کی حمایت کرتی رہیں.اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت بھی مولانا کے آزادی مارچ کی وجہ سے خاصے دباؤ کا شکار ہے.جہاں ایک طرف ڈیل کی افواہیں پھیلائی گئیں وہیں یہ بات بھی کہی گئی کہ نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے پر پیسے لگائے ہیں تاکہ وہاں سے اپنے مقصد حاصل کیے جا سکیں،اب چونکہ نواز شریف اور مریم نواز دونوں کو ضمانت مل چکی ہے تو سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا نواز شریف نے آزادی مارچ سے اپنا مقصد پورا کر لیا ہے. ن لیگ کو ایک بعد ایک ریلیف مل رہا ہے.اس وجہ سے سوشل میڈیا پر کافی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں.سیاسی مبصرین پہلے بھی اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ مولانا کا مارچ دراصل نواز شریف اور آصف علی زرداری کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا اور مولانا فضل الرحمن ہاتھ ملتے رہ جائیں گے.اور حیران کن بات یہ ہے کہ سیاسی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہو چکی ہے.مولانا نے ڈی چوک پر نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ عمران خان نے کسی بھی صورت مستعفیٰ نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے.تو کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف جو چاہتے تھے حاصل کر لیا اب مولانا فضل الرحمن فیس سیونگ کے انتظار میں ہیں.

..

ضرور پڑھیں: آزادی مارچ مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن جماعتوں کے لیے وبال جان بن گیا

Top