single photo

کشمیری میدان میں آگئے، ایسا قدم اُٹھا لیا کہ مودی سرکار ہل کر رہ گئی، پوری وادی ویران

سری نگر (قدرت روزنامہ) کشمیریوں نے مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کو ماننے سے انکار کردیا ہے . مقبوضہ کشمیر کی تقسیم کے اعلان کے بعد دکانیں بند ہو گئی ہیں جس کے بعد سڑکیں صحرا کا منظر پیش کرنے لگی ہیں .

ضرور پڑھیں: چھروں سے بینائی کھونے والے کشمیری بچوں کی تصاویر نے دنیا کو دنگ کردیا

بھارتی قابض کشمیر میں وفاقی حکام کی جانب سے علاقے کی خودمختاری واپس لینے اور اسے 2 وفاقی اکائیوں میں باضابطہ تبدیل کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں دکانیں اور دفاتر بند رہے جبکہ سڑکیں صحرا کا منظر پیش کرنے لگیں.بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اگست کے ماہ میں مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے اور خطے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے فیصلے پر کشمیریوں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے. گزشتہ رات 12 بجے کے بعد وفاقی حکومت کے احکامات پر عمل درآمد کا آغاز ہوا جس کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل ہوگیا جس میں ایک جموں و کشمیر اور دوسرا بدھ مت اکثریتی لداخ کا علاقہ شامل ہے.اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی نے بڑے پیمانے پر جشن کا پروگرام بھی ترتیب دے دیا ہے.جموں اور وادی کے لیے گریش چندر مرمو کو اور لداخ کے لیے آرکے ماتھر کو گورنر مقرر کیا گیا ہے.جب کہ پہلے سے جموں کشمیر میں تعینات گورنرستاپال کو گوا کا نیا گورنر مقرر کر دیا گیا ہے،بھارتی اقدام کے لداح کے بُدھ باشندوں کے لیے تشویش شدت اختیار کر گئی ہے.خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی. بھارت کے صدر سے کشمیر سے متعلق 4 نکاتی ترامیم پر دستخط کیے

جس کے بعد اس حوالے سے صدارتی حکم نامہ بھی جاری کیا. مقبوضہ جموں کشمیر آج سے بھارتی یونین کا علاقہ تصور کیا جائے گا. مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گا. مقبوضہ جموں کشمیر کی علیحدہ سے اسمبلی ہو گی.آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر سے باہر کے لوگ وہاں اپنے نام پر زمین نہیں خرید سکتے. پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارتی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا. جس میں اپوزیشن نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر کافی احتجاج کیا. اجلاس میں بھارتی وزیر داخلہ نے مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کو ختم کرنے سے متعلق ایک قرارداد پیش کی جس کے بعد مقبوضہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کی ایک کے سوا باقی تمام شقیں ختم کردیں.بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ نے آرٹیکل 370 اے ختم کر دیا. اس شق کے تحت غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل نہیں کر سکتے. بھارت کے آئین میں کشمیر سے متعلق دفعہ 370 کی شق 35 اے کے تحت غیر کشمیری مقبوضہ وادی میں زمین نہیں خرید سکتے. 35 اے دفعہ 370 کی ایک ذیلی شق ہے جسے 1954ء میں ایک صدارتی فرمان کے ذریع آئین میں شامل کیا گیا تھا. اس دفعہ کے تحت جموں و کشمیر کو بھارتی وفاق میں خصوصی آئینی حیثیت حاصل دی گئی تھی.

..

ضرور پڑھیں: “مشعال نے تمام تر صورتحال جانتے ہوئے بھی۔۔۔” پہلی مرتبہ کشمیری رہنماءیاسین ملک کی ساس کا موقف بھی آگیا

Top