پر تشدد مظاہروں کے نتیجے میں عراقی وزیراعظم مستعفی ہونے کو تیار

بغداد(قدرت روزنامہ) پر تشدد مظاہروں کے نتیجے میں عراقی وزیراعظم مستعفی ہونے کو تیار ہو گئے . غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراقی صدر برہام صالح کا قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ سیاسی بحران سے بچنے کے لیے پارلیمنٹ نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے جس کے بعد عادل عبدالمہدی عہدہ سے الگ ہو جائیں گے .

گزشتہ روز عراقی وزیراعظم عادل عبد المہدی نے اپوزیشن کی طرف سے استعفے کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کے استعفے کا ایک شارٹ کٹ راستہ ہے، الصدر چاہتے ہیں تو وہ مختصر راستہ کا انتخاب کر سکتے ہیں. مقتدی الصدر نے بھی وزیراعظم کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی دھمکی دی تھی، الصدر نے الفتح اتحاد کے سربراہ ہادی العامری سے تعاون کی درخواست بھی کی تھی اور انہوں نے جواب میں تعاون کا یقین بھی دلایا تھا.

خبر رساں ادارے کے مطابق پر تشدد مظاہروں کے سامنے عراقی وزیر اعظم نے بھی گھٹنے ٹیک دیے، عراقی صدر برہام صالح کا کہنا تھا کہ پارلیمان نئے وزیر اعظم کا اعلان کردے تو عبد المہدی مستعفی ہونے کے لیے تیار ہیں. عراقی صدر کا کہنا تھا کہ ملک میں نئے انتخابات تب تک نہیں ہونگے جب تک نیا انتخابی قانون نہیں پاس ہوجاتا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب عبد المہدی کو وزیر اعظم بنانے میں مرکزی کردار اداکرنے والے مقتدی الصدر بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں.یاد رہے کہ چند روز قبل عوامی مظاہروں کے باعث لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری نے بھی استعفی دے دیا تھا.خبر رساں ادارے کے مطابق عراق میں بڑھتی کرپشن، بیروز گاری اور مہنگائی کے خلاف مظاہروں کا نہ تھمنے والا سلسلہ کئی ہفتوں سے جاری ہے جس میں سینکڑوں شہری جاں بحق ہو گئے جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں.

..


Top