single photo

کربلا میں عراقی پولیس کی گولیوں سے 18 افرادہلاک‘865زخمی

بغداد(قدرت روزنامہ)عراق کے صوبے کربلا میں دھرنوں کو ختم کرانے کے دوران 18 سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں . عرب نشریاتی ادارے کے مطابق عراقی پولیس کی جانب سے احتجاج کنندگان پر گولیاں چلا دینے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 865 زخمی ہو گئے جن میں سے5زخمی ہستالوں میں دم توڑ گئے مظاہرین نے وزارت داخلہ کے زیر انتظام خصوصی سیکورٹی فورسز پر الزام عائد کیا کہ کربلا شہر میں منگل کو علی الصبح احتجاج کنندگان کو منتشر کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا اور مجمع کو براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا اور لوگوں کا قتل عام کیا گیا. شہر میں مظاہرین کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی وڈیوز میں سیکورٹی فورس کی ایک گاڑی کو احتجاج کنندگان کو روندتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اسی طرح دیگر وڈیوز میں مظاہرین براہ راست فائرنگ سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں. انسانی حقوق کے اعلی کمیشن کے مطابق کربلا شہر میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے چھوڑی گئی گیسوں کے سبب متعدد لوگوں کا دم گھٹ گیا کمیشن نے بتایا کہ صورت حال کی سنگینی کے سبب کئی خاندان ہسپتال پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے. دوسری جانب عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق کربلا میں پولیس قیادت نے پیر کے روز مظاہرین یا سیکورٹی فورسز میں سے کسی کے بھی ہلاک ہونے کی تردید کی ہے پولیس کے مطابق گذشتہ روز کربلا میں صرف ایک شہری ہلاک ہوا اور اس کی جان ایک مجرمانہ کارروائی میں گئی. کربلا پولیس نے فیس بک پر اپنے سرکاری پیج پر بیان میں کہا کہ کربلا میں تشدد کے حوالے سے وائرل ہونے والی وڈیوز جعلی ہیں اور ان کا مقصد لوگوں میں فتنہ بھڑکانا ہے پولیس نے مزید کہا کہ کسی بھی میڈیا نے مرکزی ذریعے سے رجوع کیے بغیر کربلا شہر کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش میں کوئی خبر پھیلانے کی کوشش کی تو اس کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے گی. 

. .

Top