single photo

وزیراعظم سے چُھپ کر ملاقات: (ن) لیگ کے نامور رہنما نے اپوزیشن کے آزادی مارچ کو بڑا جھٹکا دے دیا

لاہور (قدرت روزنامہ) آزادی مارچ ناکام بنانے کا معاملہ، اہم ترین لیگی رہنماؤں نے حکومتی ارکان سے رابطوں کا فیصلہ کر لیا، (ن) لیگی کارکنوں نے بغاوت شروع کر دی، حکومت کے مارچ مخالف (ن) لیگی رہنماؤں سے رابطے کی خبر سچ ثابت ہو گئی . رہنما نے اپنی جماعت کے فیصلوں کیخلاف جانے کا اعلان کیا .

ضرور پڑھیں: جے یو آئی کے آزادی مارچ میں کنٹینر سے نوجوان کی ہلاکت،رہبرکمیٹی،فضل الرحمان،شہبازشریف ،بلاول و دیگر کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ

تفصیلات کے مطابق آزادی مارچ پر حکومت کے وار جاری، اپوزیشن بکھرنے لگ گئی. ن لیگی رہنما میاں جلیل شرقپوری نے آزادی مارچ کی مخالفت کا اعلان کر دیا ہے. میاں جلیل شرقپوری نے نون لیگ کے آزادی مارچ میں شمولیت کے فیصلے کو بھی غلط قرا دیا ہے.

یاد رہے اپوزیشن سے حکومتی رابطوں کی خبر لاہور نیوز نے 12 اکتوبر کو نشر کی تھی. میاں جلیل شرقپوری نے گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس اعلان کیا تھا. رابطے کا آغاز وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے (ن) لیگی رہنماؤں سے کیا گیا تھا. وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والوں میں میاں جلیل شرقپوری بھی شامل تھے. آزادی مارچ روکنے کے لیے قائم حکومتی کمیٹی نے مذاکرات کے لیے مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف اور بلاول سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے. ایکسپریس نیوز کے مطابق پرویز خٹک کی زیر صدارت حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں رہبر کمیٹی کے مطالبات پر غور کیا گیا جب کہ وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مسترد کردیا گیا.

اجلاس میں شریک کمیٹی کے حکومتی اراکین نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے پرامن احتجاج کا حق تسلیم کرتی ہے لیکن ملکی اور خطے کی موجودہ صورتحال میں اسلام آباد پر چڑھائی کرنا مناسب نہیں. ارکان کا موقف تھا کہ حکومت بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے میں سنجیدہ ہے اس لیے حکومتی کمیٹی تمام اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرے گی اس ضمن میں حکومتی کمیٹی کے اراکین مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف اور بلاول بھٹو سے خود رابطہ کریں گے.

..

ضرور پڑھیں: آزادی مارچ مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن جماعتوں کے لیے وبال جان بن گیا

Top