single photo

اگر ملک میں مارشل لاء لگا تو شیخ رشید کو خوشی ہو گی

لاہور (قدرت روزنامہ) سینئیر سیاستدان جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں مارشل لاء لگا تو شیخ رشید کو خوشی ہو گی جو اپنے آپکو اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ کہتے ہیں . جاوید ہاشمی نے سروسز اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید مارشل لاء کا حصہ رہے ہیں .

ضرور پڑھیں: یہ ووٹ بھی دیں گے، پیاز اور جوتے بھی کھائیں گے، شیخ رشید

لیکن ہم نے جیلیں کاٹی ہیں اور ہمیں اس کا دکھ ہوتا ہے. پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں لیڈر پیدا نہیں ہوتے کیونکہ جوبڑا لیڈر بنتا ہے اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے.جاوید ہاشمی نے کہا کہ قائداعظم ایمبولنس میں شہید ہو جاتے ہیں،لیاقت علی خان کو باغ میں شہید کر دیا جاتا ہے اور بھٹو کو جیل میں پھانسی دے دی گئی.

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عجیب صعرتحال ہے اگر کوئی ان کی بات نہیں مانتا تو اس کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے. گذشتہ روز بھی ملتان میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاویدہاشمی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا سو سالوں پر محیط ہوتا ہے، بدقسمتی ہمارے ملک میں ایسا نظام رائج ہے کہ یہاں کوئی سیاست دان پیدا نہیں ہو سکتا. نواز شریف کی اسیری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب مکمل طور پر انتقام بن چکا ہے، جیل میں سہولتیں پوری دنیا میں ملتی ہیں، مگر یہاں پر تو اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں ہے. اس ضمن میں ان کا مزید کہنا تھا کہ مریم نواز جس طریقے سے جیل بھگت رہی ہیں کوئی سوچ نہیں سکتا جبکہ میاں نوازشریف زندگی اورموت کی کشمکش میں مبتلا ہیں.

حکومتی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ آج مہنگائی کے پہاڑوں کے نیچے عوام پس رہے ہیں.ان کا کہنا تھا کہ ابھی مہنگائی مزید بڑھنی ہے اوریہ عوام کو کہتے ہیں ہم کوئی نوکریاں نہیں دیں گے جبکہ اپنے رشتے داروں میں نوکریاں بانٹ رہے ہیں.آزادی مارچ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان میرے چھوٹے بھائی ہیں، ان کے آزادی مارچ پر سب جماعتیں سوچ بوجھ کے بعد متفق ہوئی ہیں تاہم میں اب بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو پانچ سال تک حکومت کرنے دیں.

..

ضرور پڑھیں: مولانا سے پوچھیں استعفا کس دسمبر میں آئےگا؟ شیخ رشید

Top