single photo

نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی نہیں ہونی چاہیے تھی کیونکہ ۔۔۔۔ تحریک انصاف کے نامور رہنما نے حیران کن بات کہہ ڈالی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ولید اقبال کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی نہیں ہونی چاہیے تھی . لاہور میں ممتاز قانون دان مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی یاد میں کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ملکی سیاسی و سماجی اور دیگر شخصیات نے شرکت کی .

جیو نیوز کے مطابق کانفرنس سے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں نے خطاب کیا، تقریب سے خطاب میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ آئین کو اصل حالت میں بحال کرنے کیلئے عاصمہ جہانگیر جیسی جدوجہد کرنا ہوگی.انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پارلیمانی نظام کو سمیٹنا چاہتی ہے، یہ حکومت سیاسی آوازیں دبانے کیلئے کالے قوانین متعارف کرا رہی ہے، آج جمہوری حقوق کیلئے احتجاج کو دبایا جا رہا ہے.ان کا کہنا تھا کہ خارجہ امور اور قومی سلامتی کے حوالے سے پارلیمان کو بااختیار ہونا چاہیے، کشمیر کے معاملے پر حکومت کی کوشش ناکافی ہے.پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری کا احسن اقبال کا عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ 20 ویں صدی کا قومی سلامتی کا تصور اب بدل چکا ہے، سوویت یونین کے ٹکڑے ہوتے ہی سیکیورٹی اسٹیٹ کا تصور ختم ہوگیا، یہ 21 ویں صدی میں معیشت ہی ملکی سلامتی کی ضامن ہے.انہوں نے کہا کہ 1999 میں ہم جنوبی ایشیاءکی سب سے بڑی معیشت تھے لیکن آج بھارت، نیپال، سری لنکا اور بنگلا دیش ہم سے آگے نکل چکے ہیں، ہم 72 سال بعد بھی یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ملک مضبوط وفاق پر چلے یا پارلیمانی پر.احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے مسکن ملک میں بھی جمہوریت جدوجہد کررہی ہے، ہمارے ملک میں عدلیہ آزاد ہوگی تب ہی ملک آگے بڑھے گا،ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ملک آئین پر چلے گا یا نہیں.تحریک انصاف کے سینیٹر ولید اقبال کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہماری سیاسی لیڈر شپ ڈکٹیٹرشپ کے دور میں پیدا ہوئی لیکن بھٹو کی 2 کامیابیاں ہیں کہ ایک آئین پاکستان اور دوسرا ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا. انہوں نے کہا کہ مغرب میں ضمانت کا طریقہ کار ہمارے جیسا نہیں، آرٹیکل 62 میں ترمیم جنرل ضیاءالحق لیکر آئے، نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی نہیں ہونی چاہیے تھی. بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر اختر مینگل کا کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھاکہ اٹھارہویں ترمیم سے کچھ ملا لیکن پوری طرح مطمئن نہیں.یاد رہے کہ معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر 11 فروری 2018 کو انتقال کرگئیں تھیں.66 سالہ عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں اور وہ سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر جانی جاتی تھیں.نڈر، باہمت اور بے باک خاتون عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل تھا اور وہ ججز بحالی تحریک میں بھی پیش پیش رہیں.2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عاصمہ جہانگیر کو گھر میں نظربند کیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ خاموش نہ بیٹھیں اور اس وقت کے صدر پروز مشرف کے فیصلے کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا. عاصمہ جہانگیر کو 2010 میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا جب کہ 1995 میں انہیں مارٹن انل ایوارڈ، ریمن میکسیسے ایوارڈ، 2002 میں لیو ایٹنگر ایوارڈ اور 2010 میں فور فریڈم ایوارڈ سے نوازا گیا. عاصمہ جہانگیر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں اور آخری مرتبہ انہوں نے 9 فروری 2018 کو عدالت کے روبرو پیش ہوکر دلائل دیے تھے.

..

Top