single photo

بے چاری بیانیہ اور اسلام آباد کی ہیلن آف ٹرائے پر ان دنوں کیا بیت رہی ہے ؟ بابر اعوان نے کچھ نہ بتا کر بھی سب کچھ بتا دیا

لاہور (قدرت روزنامہ) سیاسی کاروبارِ نجوم اس سے بھی بڑھیا درجے کا ہے‘ جس کا 5 نکاتی بیانیہ یہ ہے . نکتہ نمبر1: جنابِ لیڈر کی مفروری والی واردات کو ہجرت قرار دینا .

ضرور پڑھیں: اسلام آباد جادو ٹونے کی گرفت میں ہے: شہباز شریف کا دعویٰ

نکتہ نمبر2: معافی نامے کو تحریری اعلانِ بغاوت کہنا. نکتہ نمبر3: موصوف کی ناکامیوں کو یہودیوں کی عالمی سازشیں ثابت کرنا. نامور سیاستدان ڈاکٹر بابر اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ....... نکتہ نمبر4: مسلسل منی لانڈرنگ پر ”ہٰذا من فضلِ ربی‘‘ کا سائن بورڈ لگانا. نکتہ نمبر5: تسلسل کے ساتھ بوٹ پالش اور مالش کرنے کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بے جگری سے لڑی جانے والی Trojan war ٹھہرا دینا جس کی ”ہیلن آف ٹرائے‘‘ پنڈی اسلام آباد کی رہنے والی ہے. لیکن ان دنوں سیاست کے مولانا نے مزاحمت کے سارے بیانیے لپیٹ چھوڑے ہیں. میٹھے چاولوں کی اس دیگ کے چند چاول آپ کے چکھنے کے لئے حاضر ہیں. میٹھا چاول نمبر1: تقریباً 280 سال بعد حضرت لال شہباز قلندر کے دربار شریف پہ مودبانہ حاضری. دوسرا میٹھا چاول: اگرچہ سوشلزم ہماری سیاست ہے لیکن مولوی ہماری قیادت ہے. میٹھا چاول نمبر3: سب سے مضبوط بیانیہ آلِ شریف کا جس کی قیادت مولانا کی. چاول نمر4: احتجاج کا ایجنڈا 100 فیصد خفیہ ہے بلکہ پروگرام بھی. دھرنا ہو گا، مارچ ہو گا، جلسہ ہو گا یا لپھڑا. ”کتنے آدمی تھے‘‘. دیکھ کر بتائیں گے. کتنے آدمی تھے والے ڈائیلاگ سے دو چیزیں یاد آتی ہیں. ایک گبھّر اور دوسرا سارا ٹبّر. چلئے جاتی امرا سے گنتی شروع کر لیں. نواز شریف پاکستان سے گرفتار ہوئے. ضمانت پر باہر نکلے. پھر لندن سے واپسی پر سزا کاٹنے جیل گئے. اب پھر سے ریمانڈ پر ہیں. ان سارے مرحلوں پر کل مِلا کر، بلکہ بُلوا، اور منگوا کر بھی، سارے آدمی چند درجن یا چند گُرسوں سے آگے نہیں بڑھ سکے. خادمِ اعلیٰ کی خدمت کے مجنوں دودھ پینے والے ثابت ہوئے. بے چارے پوچھتے رہ گئے ”کتنے آدمی تھے‘‘. شریف برادران کے مقابلے میں حمزہ شہباز کس فائونڈری کا سریا ہیں یعنی کس باغ کی مُولی. مریم صاحبہ کو ہر دورے میں ہر طرف کروڑوں سر نظر آئے. اب مریم ہیں اور اُن کے نصف بہتر کپتان صفدر اعوان. سرفروش غائب. کبھی پولیس کو دھکے کبھی کارکنوں کو دھپّے. ہر تاریخ پر مگر ایک سوال ضرور اُٹھتا ہے. آج کتنے آدمی تھے؟ اب خود سوچ لیجیے، جس قیادت کے لئے گنتی کے چند لوگوں سے زیادہ کبھی باہر نہیں نکلے. وہ اپنے نئے امام کے لئے لاکھوں کا بپھرا سمندر کہاں سے جمع کریں گے. اب نواب شاہ چلئے‘ جہاں شاہی اور نوابی آن بان والے لیڈروں پہ ہاتھ پڑا. میں بوجوہ، تبصرہ نہیں کرتا. اب دل پہ ہاتھ رکھ کر، اپنے آپ کو، آپ ہی سچ بتا دیں،

کتنے آدمی تھے؟ اب مولوی صاحب کی سیاسی طاقت بھی دیکھ لیں. 1988 کی اسمبلی میں 7 سیٹیں تھیں. حاصل کردہ ووٹ تقریباً 2 فیصد. 1990 میں 2.9 فیصد ووٹ ملے. 1993 میں صرف 4 سیٹیں. 1997 میں موصوف کا صفایا ہو گیا. صرف 1.7 فیصد ووٹ ملے. مشرف دور میں لاٹری نکلی اور 2002 میں 30 سیٹیں حاصل کیں. 2008 میں مجلس نے صرف 2.2 فیصد ووٹ لئے. 2013 میں 15 قومی اسمبلی کی سیٹیں. 2018 میں پھر متحدہ مجلس عمل بنی لیکن سیٹیں وہی 15. جے یو آئی (ف) کو کبھی 3.2 فی صد سے زیادہ ووٹ نہیں ملے. سارے الیکشنز میں اُن کے نتائج تقریباً یکساں رہے. El Chapo کے سر پر ناجائز کمائی کا تاج سجا ہے. اس کا بیٹا گزمان بھگوڑا ہے. اسی ہفتے میکسیکو کی حکومت نے اُسے گرفتار کیا. ”معززینِ شہر‘‘ مسلح ہو کر گزمان کے آگے کھڑے ہو ئے. لاشیں، لہو، آگ اور بارود نے گزمان کو سکیورٹی فورسز کے نرغے سے بچا لیا. El Chapo بیرونِ ملک بیٹھ کر بھی میکسیکو میں اپنے مافیا کے فسادی مارچ کی قیادت کرتا ہے. خود باہر نہیں آ سکتا نہ اُس کا بیٹا باہر نکلا. ذرا اس کی مماثلت اپنے ہاں تو دیکھیں. جہاں بیانیہ بے چاری ہے اور پاکستانی El Chapo کو چارہ گر مل گیا. جیسے گیسولین کو پٹرول پمپ. ان دنوں پٹرول پمپ کا بزنس پھر گرم ہے. رات مے خوار، ہم فقیروں سے .. دَم کرانے شراب لے آئے.(ش س م)

..

ضرور پڑھیں: اسلام آباد کو کراچی نہیں بننے دیں گے، سپریم کورٹ

Top