single photo

لاہور کا ڈاکو ہسپتال : ناموردانشور اور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی ، تو ان کے ساتھ مسیحاؤں نے کیا واردات ڈالی ؟ توفیق بٹ نے افسوسناک احوال بیان کر دیا

لاہور (قدرت روزنامہ) گزشتہ کالم میں نے پنجاب کے محکمہ صحت کی مکمل بربادی پر لکھا تھا، میں نے عرض کیا تھا سرکاری ہسپتالوں کی بدحالی سے پرائیویٹ ہسپتالوں کا بزنس اتنا چل رہا ہے ممکن ہے اس ملک کے ”اصل حکمران“ اب ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کی جگہ پرائیویٹ ہسپتال کھولنا شروع کردیں، نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں . .

ضرور پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کے وہ مثبت پہلو جو پوری امت مسلمہ کے لیے امید بن چکے ہیں ۔۔۔ توفیق بٹ کی ایک شاندار تحریر

.....کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے پرائیویٹ ہسپتالوں کی لُوٹ مار سے سرکار کو باقاعدہ حصہ ملتا ہے، سرکار کو نہ بھی ملتا ہووزیرصحت یا اُن سرکاری افسران کو ضرور ملتا ہوگا جو سرکاری ہسپتالوں کا نظام جان بوجھ کر شاید اس لیے ٹھیک نہیں کرتے کہ اگر سرکاری ہسپتالوں کے معاملات ٹھیک یا بہتر ہوگئے تو مہنگے ترین پرائیویٹ ہسپتالوں کو کون پوچھے گا؟ اور اگر یہ مہنگے ترین پرائیویٹ ہسپتال نہیں چلیں گے تو محکمہ صحت کے بے شمار افسران یا وزیر صحت وغیرہ کی جیبیں کیسے گرم ہوں گی؟…. پرائیویٹ ہسپتالوں کی تازہ ترین ”دہشت گردی“ کا شکار ہمارے محترم دانشور جناب اجمل نیازی ہوئے. ان کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی، بحریہ ہسپتال لاہور میں ان کا آپریشن ہوا، آپریشن کے بعد انہیں نمونیہ ہوگیا، ان کے آرتھوپیڈک سرجن نے انہیں لاہور کے معروف ترین ”ڈاکوہسپتال“ میں لے جانے کا مشورہ دیا، لاہور کا یہ مہنگا ترین ہسپتال مریضوں کا علاج کم کرتا ہے ان کی کھالیں زیادہ اُتارتا ہے، چونکہ ان کے معالج کا حکم یا ہدایت تھی، انہیں نمونیے وغیرہ کے علاج کے لیے وہیں داخل کروایا جائے لہٰذا ان کی بیگم اس کے باوجود انہیں وہاں لے گئیں وہ جانتی تھیں اس قدر مہنگے ہسپتال میں علاج وہ افورڈ نہیں کرسکتیں، ان کا جذبہ مگر یہ تھا ان کے شوہر سے قیمتی کوئی شے نہیں ہے. لاہور کے اس ڈاکو ہسپتال میں ہرطرح کا ”بکرا“ ذبح کرنے کے ”قصائی“ ہروقت موجود رہتے ہیں، جناب اجمل نیازی کے وہاں پہنچتے ہی مختلف اقسام کے ”قصائیوں“ نے انہیں اپنے نرغے میں لے لیا، کئی طرح کے ضروری اور غیرضروری ٹیسٹ کروانا شروع کردیئے، ایسا بھی ہوا ایک ہی ٹیسٹ دو، دو، تین تین بار کروایا گیا. ہزاروں روپے کا بل صرف ٹیسٹوں کا بن گیا. اس کے علاوہ ہر ”قصائی“ کے وزٹ کی الگ سے فیس تھی، پہلے انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا. اس کے بعد پرائیویٹ روم میں شفٹ کردیا گیا، جس کا یومیہ کرایہ کسی پوش علاقے میں ایک کنال کے گھر کے ماہانہ کرایے جتنا تھا، بہرحال دس یوم تک مکمل کھال اتروانے کے بعد جب وہ وہاں سے نکلے تو دس لاکھ روپے کا بل انہیں تھما دیا گیا، یہ دس لاکھ روپے بیگم اجمل نیازی نے اس صبر شکر کے ساتھ ادا کردیئے کہ دس روز یہاں گزارنے کے بعد نیازی صاحب اللہ کے فضل سے زندہ سلامت بچ نکلے.….ہمارے فائیوسٹار ہوٹلوں کے کمروں کے یومیہ کرائے آج کل اتنے نہیں ہیں جتنے پرائیویٹ ہسپتالوں کے کمروں کے یومیہ کرائے ہیں، ہم ایسے ہی اپنے حکمرانوں کے بارے میں کہتے رہتے ہیں ”انہیں مرنا یادنہیں“ ….

پاکستان میں اگر واقعی کسی کو مرنا یاد نہیں تو وہ ہمارے اکثر ڈاکٹر صاحبان عرف ” ڈاکو صاحبان“ یا پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان ہیں. کچھ عرصہ پہلے میرے ایک عزیز کے پیٹ کا آپریشن تھا، ان کے معالج نے فرمایا ” میں جیل روڈ کے ایک مشہور پرائیویٹ ہسپتال میں آپریشن کروں گا، ہم آپریشن سے ایک روز پہلے اس پرائیویٹ ہسپتال میں انہیں داخل کروانے لے گئے، نرس ہمیں اس ہسپتال کے مختلف کمرے دیکھا رہی تھی، ایک کمرہ اس نے دیکھایا ، اس کا یومیہ کرایہ اس نے بیس ہزار روپے بتایا، اس کے بعد وہ ہمیں اس کے بالکل سامنے والے کمرے میں لے گئی، اس کا یومیہ کرایہ اس نے پچیس ہزار روپے بتایا، میں نے اس سے کہا ”بی بی سامنے جو کمرہ آپ نے اس سے پہلے ہمیں دیکھایا ہے اس کا سائز اور سہولتیں وہی ہیں جو اس کمرے کی ہیں، پھر اس کا کرایہ اس کمرے سے پانچ ہزار اضافی کیوں ہے؟ وہ نرس اچانک بڑی پھرتی سے پیچھے کی طرف مڑی اور کمرے کی کھڑکی کا ”کرٹن“پیچھے کرکے بولی ” سر ادھر سے ذرا ویو اچھا ہے “ …. یعنی پانچ ہزار روپے اضافی صرف ” ”ویو“ اچھاہونے کا وہ لے رہے تھے، …. صرف کمرے کے کرایوں کی مد میں نہیں اور بے شمار معاملات میں اتنا زیادہ بل بنادیا جاتا ہے مریض بے چارہ اتنا اپنی بیماری سے نہیں بلبلاتا جتنا پرائیویٹ ہسپتال کا بل دیکھ کر بلبلا اٹھتا ہے، …. اس سے بھی بڑھ کر المیہ یہ ہے کئی بیماریاں اکثر ڈاکٹر عرف ” ڈاکو صاحبان“ اپنے پلے سے مریضوں میں ڈال دیتے ہیں، ایک مریض اپنا گلہ چیک کروانے گیا، ای این ٹی سپیشلسٹ نے اس سے کہا ”مجھے لگتا ہے آپ کا گوڈا بھی خراب ہے، اب آپ آئے تو ہوئے ہیں اسی بہانے اپنا گوڈا بھی چیک کروالیں. ساتھ ہی کمرے میں میرے دوست آرتھوپیڈک سرجن بیٹھتے ہیں ، ویسے تو ان کی اپوائمنٹ ملنا بڑا مشکل ہے مگر میں ابھی انٹرکام پر ان سے بات کرلیتا ہوں وہ آپ کو چیک کرلیں گے“….مریض بولا”مگر ڈاکٹر صاحب میرے گوڈے میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ درد ہے“، …. ای این ٹی سپیشلسٹ نے ڈانٹتے ہوئے اس سے کہا ”ڈاکٹر میں ہوں یا تم ہو؟“ تمہیں مجھ سے زیادہ پتہ ہے کہ تمہیں کیا بیماری ہے ؟. میں عارضی طورپر تمہارے گلے کا علاج تو کردوں گا مگر تمہارا گلہ تمہارے”گوڈے“ کی وجہ سے ٹھیک نہیں ہورہا، جب تک تم گوڈے کا علاج نہیں کرواﺅ گے تمہارا گلہ مکمل طورپر ٹھیک نہیں ہوگا“،….خیر گلے کا نسخہ لکھوانے کے بعد وہ آرتھوپیڈک سرجن کے پاس گیا، اس نے سب سے پہلے دونوں ”گوڈوں“ کے ایکسرے کروانے کے لیے کہا، ساتھ یہ بھی ہدایت کی ایکسرے دو طرح کے کروانے ہیں، ایک لیٹ کر، دوسرے کھڑے ہوکر…. ایکسرے کی ”فلمیں“ لے کر وہ دوبارہ آرتھوپیڈک سرجن کے پاس آیا اس نے کہا آپ کے دونوں گوڈے بہت کمزور ہوچکے ہیں، آپ کو چاہیے فوری طورپر گوڈے تبدیل کروالیں ورنہ گوڈوں کی یہ بیماری موڈوں تک جا پہنچے گی، اور اس کے بعد گوڈوں کے ساتھ ساتھ ہمیں آپ کے موڈے بھی تبدیل کرنا پڑیں گے. صرف گوڈے تبدیل کرنے پر آپ کے پانچ سے چھ لاکھ روپے خرچ ہوں گے، لیکن آپ نے تاخیر کی تو موڈوں اور گوڈوں دونوں کی تبدیلی پر آپ کا پندرہ سے بیس لاکھ روپے خرچ آسکتا ہے“. مریض نے آرتھوپیڈک کی ساری باتیں بڑے غور سے سنیں، اس کی فیس ادا کرنے کے بعد اس کے کمرے سے نکل کر وہ دوبارہ ای این ٹی سپیشلسٹ کے پاس گیا اور عرض کیا ” سر میں نے اپنے گوڈے چیک کروالیے ہیں . میرے پیٹ میں اکثر درد بھی رہتا ہے ممکن ہے میرے گلے کی خرابی کی ایک وجہ یہ بھی ہو، میرا جی بھی اکثر متلاتا رہتا ہے، کسی ”گائناکالوجسٹ“ کو بھی فون کردیں. اب میں آیا تو ہوا ہوں اسی بہانے اسے بھی چیک کروالوں!!(ش س م)

..

ضرور پڑھیں: جب بھی اس ملک کے کچھ ” اصل طاقتوروں “ کو اپنی عزت آبرو داﺅپر لگتی ہوئی محسوس ہوتی ہے تو وہ پولیس کے مظالم کی بحث چھڑوا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ توفیق بٹ کے تہلکہ خیز انکشافات

Top