single photo

آزادی مارچ میں جمیعت علمائے اسلام (ف) نے اپنے مطالبات پر لچک نہ دکھانے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) جمیعت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف آزادی مارچ اور دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ حکومت نے مولانا فضل الرحمان اور ان کی ٹیم سے مذاکرات کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے . اس حوالے سے پارٹی ذرائع نے بتایا کہ حکومتی کمیٹی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے براہ راست رابطے کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں .

ضرور پڑھیں: جے یو آئی کے آزادی مارچ میں کنٹینر سے نوجوان کی ہلاکت،رہبرکمیٹی،فضل الرحمان،شہبازشریف ،بلاول و دیگر کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ

جبکہ مولانا فضل الرحمان نےان رابطوں کے جواب میں صاف اور واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اگر مذاکرات ہوئے تو صرف اور بات صرف ہمارے مطالبات پر ہو گی. پارٹی ذرائع نے بتایا کہ حکومتی مذاکرات کرنے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ رہبر کمیٹی کرے گی. ذرائع کے مطابق جمیعت علمائے اسلام (ف) نے مذاکرات کے لئے کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی جبکہ رہبر کمیٹی میں بھی مطالبات پر مذاکرات کرنے کا مؤقف دیا جائے گا. آزادی مارچ کے مطالبات میں وزیر اعظم کا استعفٰی سر فہرست ہے. جبکہ مولانا کے آزادی مارچ کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف آپشنز پر غور کیا جارہا ہے

جن میں مولانا فضل الرحمان کی نظربندی بھی شامل ہے. خیال رہے کہ کچھ اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ اور دھرنا منسوخ کرنے کے لیے نہایت اچھا ''سیاسی پیکج'' پیش کیا گیا تھا لیکن مولانا فضل الرحمان نے اس پیکج کی پیشکش کو مسترد کرد یا. ذرائع نے مزید بتایا کہ مولانا فضل الرحمان عمران خان کے علاوہ کسی بھی سیاسی رہنما سے ہاتھ ملانے کو تیار ہیں. وزیراعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کے لیے جو الفاظ استعمال کیے اس پر مولانا فضل الرحمان سخت نالاں ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ اب عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے دھرنا دینے کے لیے بھی تیار ہیں.

..

ضرور پڑھیں: آزادی مارچ مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن جماعتوں کے لیے وبال جان بن گیا

Top