single photo

کمزورجمہوریت آمریت سے بہتر،آمریت کوکوئی موقع نہیں دیں گے، بلاول بھٹو

راولپنڈی(قدرت روزنامہ) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیاسی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے،آصف زرداری کی صحت تیزی سے خراب ہورہی ہے،حکومت طبی سہولیات نہ دے کریواین کنونشن کی خلاف ورزی کررہی ہے، پاکستان جیسا ملک چلانا کرکٹ میچ نہیں ،پی ایس 11الیکشن نہیں سلیکشن تھی . انہوں نے آج یہاں راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحب نے آصف زرداری کو میڈیکل بورڈ کی بنیاد پر ہسپتال منتقل کرنے کا کہا گیا تھا، لیکن افسوس عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا گیا .

ضرور پڑھیں: ”آمریت گندی جمہوریت کا تحفہ ہے“حسن نثار کا ایلیٹ کلاس سے متعلق پرمغز تجزیہ

لگ رہا ہے کہ توہین عدالت صرف جمہوری قوتوں کیلئے ہے، غیرآئینی قوتیں جو مرضی کرتی رہیں،کل وکیل لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوں گے، قیدیوں کو اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق طبی سہولیات نہیں دی جارہی ہیں،حکومت طبی سہولیات نہ دے کر اقوام متحدہ کے کنونشن کی خلاف ورزی کررہی ہے. سیاسی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے.آصف زرداری کا صحت تیزی سے خراب ہوتا جا رہا ہے،آصف زرداری کو طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جارہی،ہم اپنے حق کا مطالبہ کررہے ہیں. یہ کیسے ہوسکتا ہے ملزم سندھ کا ہوگا، کیس سندھ کا ہو، اور آپ پنڈی میں ٹرائل کررہے ہیں. پیپلزپارٹی کی قیادت کے ساتھ پنڈی میں حادثات ہوتے ہیں.انہوں نے کہا کہ ہماری انسانی حقوق اور معاشی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رہے گی.کراچی میں زبردست جلسہ کیا ہے ،23اکتوبر پر تھرپارکر میں جلسہ کریں گے.

وہاں بھی عوام نااہل حکومت کو پیغام دیں گے کہ عوام اس نااہل حکومت کو گھر بھیجنا چاہتے ہیں پاکستان جیسا ملک چلانا کرکٹ میچ نہیں ہے. بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے دورحکومت میں بھی مارچ اور دھرنے ہوئے لیکن ہم نے ان کو کھانے دیے. انہوں نے کہا کہ یہ کٹھ پتلی ہیں، ان کو ملک چلانا نہیں آتا، ملک چلانا کوئی کرکٹ میچ نہیں ہے.حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آزادی مارچ کا کوئی سیاسی حل نکالے، لیکن حکومت کے پاس کو ئی سیاسی حل نہیں ہے.ان کے پاس سیاست اور گورننس کیلئے کوئی منصوبہ نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں آمریت کوکوئی موقع نہ دیں،کیونکہ ٹوٹی پھوٹی کمزور جمہوریت آمریت سے بہتر ہے،ہم آزادی مارچ کو ہر جگہ پر ویلکم اور سپورٹ کریں گے.

..

ضرور پڑھیں: ہمیں جمہوریت نہیں آمریت ہی راس ہے ، جب الطاف حسین کا آہنی پنجہ سر پر ہوتا تھا تو ان، وسیم اختروں اور مصطفیٰ کمالوں کی مصروفیات کیا ہوتی تھیں ؟ حسن نثار نے کچرا سیاست کی اصلیت بے نقاب کر دی

Top