single photo

بریکنگ نیوز: صبح کو بہادری کا مظاہرہ، ٹرمپ کا خط ردی کی ٹوکری میں ۔۔۔۔ مگر رات گئے طیب اردگان نے تہلکہ خیز یوٹرن لے لیا ، امت مسلمہ سمیت پوری دنیا حیران رہ گئی

انقرہ (قدرت روزنامہ) ترکی نے شمالی شام میں جنگ بندی پر رضامندی کا اظہار کر لیا ہے جہاں وہ کرد جنگجوؤں سے نبرد آزما ہیں، تاکہ کردوں کو وہاں سے نکلنے کا موقع مل سکے . یہ معاہدہ امریکی نائب صدر مائیک پینس اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کے درمیان انقرہ میں جاری ملاقات میں طے ہوا .

ضرور پڑھیں: ناروے میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف قدم اٹھانے والا نوجوان امت مسلمہ کا ہیرو ہے۔علامہ سید باقر عباس زیدی

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ......امریکی نائب صدر مائیک پینس کے مطابق معاہدے کے تحت پانچ دن کے لیے جنگ بندی ہوگی اور امریکہ کرد جنگجوؤں کو وہاں سے نکلنے میں مدد فراہم کرے گا.البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ کرد جنگجوؤں کی تنظیم وائی پی جی اس معاہدے کو پورا کرے گی یا نہیں.کرد جنگجوؤں کے رہنما کمانڈر مظلوم کوبانی نے کہا ہے کہ کرد مسلح گروپ سرحد کے نزدیک موجود قصبے راس العین اور تال ابیاد کے درمیان علاقے کی حد تک اس معاہدے کی پابندی کریں گے. انھوں نے مزید کہا کہ دیگر علاقوں کے بارے میں ابھی تک بات نہیں کی گئی ہے.چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام اور ترکی کی سرحد کے پاس موجود امریکی فوجوں کے انخلا کا اعلان کیا جس کے بعد گذشتہ ہفتے ترکی نے سرحد پار جارحیت کا آغاز کر دیا.اس پیش قدمی کا مقصد سرحد پار کرد مسلح گروہ پیپلز پروٹیکشن یونٹ یعنی وائی پی جے کو پیچھے دھکیلنا تھا جسے ترکی کی قیادت وائی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا ایک حصہ تصور کرتے ہیں جو ترکی میں گذشتہ تین دہائیوں سے کردستان کی خودمختاری کے لیے مسلح جدوجہد کر رہی ہے.ترکی کو امید تھی کہ ایسا کرنے سے وہ قریبی علاقوں میں موجود بیس لاکھ شامی پناہ گزینوں کو بسانے میں مدد ملے گی تاہم ترکی کی ناقدین کا کہنا تھا کہ ترکی جارحیت سے مقامی کرد آبادی کو سخت خطرہ درپیش ہوگا.صدر ٹرمپ کو فیصلے کے بعد شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے کرد اور عرب ملیشیاؤں پر مشتمل شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) کے نام سے قائم اتحاد کو اکیلا چھوڑ دیا.واضح رہے کہ ایس ڈی ایف میں وائی پی جے کو بالادستی حاصل ہےاور انھوں نے گذشتہ چار برس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فضائی مدد سے ایک چوتھائی شام کو داعش سے چھڑا لیا تھا.بدھ کو امریکی صدر نے کہا کہ کرد ‘فرشتے نہیں ہیں’ اور ساتھ میں مزید کہا کہ ‘یہ ہماری سرحد نہیں ہے. ہم اپنی جانیں اس پر قربان نہیں کریں گے.’مائیک پینس کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کے باضابطہ اعلان سے قبل ہی صدر ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے کہا ‘لاکھوں جانیں بچ جائیں گی

!‘.ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ‘تین دن قبل یہ معاہدہ نہیں ہو سکتا تھا. اس کے لیے سختی کرنا ضروری تھا. یہ سب کے لیے بہت زبردست ہے، مجھے سب پر فخر ہے!’نائب صدر پینس نے بھی صدر ٹرمپ کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ جنگ بندی چاہتے تھے. وہ تشدد کو ختم کرنا چاہتے تھے.’یاد رہے کہ ترک صدر اردوغان اور نائب صدر پینس کی ملاقات سے ایک روز قبل امریکی صدر کی جانب سے اپنے ترک ہم منصب کے نام لکھا گیا ایک خط منظر عام پر آیا جس میں انھیں نے تنبیہ کرتے ہوئے لکھا: ‘زیادہ سخت بننے کی ضرورت نہیں ہے. بےوقوفی مت کرو.’جنگ بندی کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ نے صدر اردوغان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ ایک بہترین رہنما ہیں جنھوں نے درست فیصلہ کیا.’ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو نے صحافیوں کو بتایا کہ ترک فوج کی پیش قدمی مستقل طور پر صرف اس وقت ختم ہوگی جب ایس ڈی ایف مکمل طور پر سرحدی علاقہ خالی کر دے.’ہم اپنے آپریشن کو محظ معطل کر رہے ہیں. ہم اسے صرف اس وقت ختم کریں گے جب ترک مسلح گروپ پورا علاقہ خالی کر دیں.’ترکی کے فیصلے پر امریکہ کا کہنا ہے وہ ترکی پر لگائی گئی اقتصادی پابندیاں بھی ختم کر دے گا البتہ ڈیموکریٹک پارٹی کے دو اہم رہنما، نینسی پلوسی اور چک شومر نے اس کی تنقید کی ہے.ادھر کرد سیاستدان الدار زے لیل نے جنگ بندی کے فیصلے کی تائید کی مگر ساتھ ساتھ کہگ کہ ایس ڈی ایف اپنا دفاع کرے گی اگر اس پر کوئی حملہ کیا جائے گا.

..

ضرور پڑھیں: آپ سے تو یہ تو قع نہ تھی ۔۔۔۔ چینی حکومت نے اپنے ملک میں بسنے والے مسلمانوں کے حوالے سے ایسا اعلان کردیا کہ امت مسلمہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

Top