single photo

’’ ایران ، پاکستان اور افغانستان جب اکٹھے ہوجائیں گے تو ۔۔۔‘‘ سالوں قبل برصغیر کی معروف روحانی شخصیت ’ نعمت شاہ ولیؒ ‘ کی جانب سے کیا تینوں ملکوں کے حوالے سے کیا پیش گوئی کی گئی تھی؟ جانیئے

لاہور(قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے نامور رہنماء ڈاکرر عامر لیاقت حسین کا کہنا ہے کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ایک ایسے شخص کے ساتھ ہوں جو مسلم اُمہ کا سوچ رہا ہے، نعمت شاہ ولی ایک بہت بڑے روحانی بزرگ ہیں، انہوں نے بہت ساری پیشگوئیاں کی ہیں، جن میں سے ایک پیش گوئی یہ بھی ہے کہ ایران ، پاکستان اور خطے میں جو مسلم ممالک ہیں یعنی کہ افغانستان، یہ ایک وقت آئے گا کہ ایک ساتھ اکٹھے ہونگے اور جب یہ اکٹھے ہونگے تب ہی غزوہ ہند کا وقت ہوگا . تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے یونائیٹڈ نیشن ہیومن رائٹس میں پاکستان کی جانب سے کوئی قراداد پیش ہی نہیں کی گئی تھی، یہ ایک افواہ پھیلائی گئی کہ پاکستان کو 16 ووٹ ملے اور اس وجہ سے یہ قرار داد ویٹو کرنی پڑی،میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ایک ایسے شخص کے ساتھ ہوں جو مسلم اُمہ کا سوچ رہا ہے، نعمت شاہ ولی ایک بہت بڑے روحانی بزرگ ہیں، انہوں نے بہت ساری پیشگوئیاں کی ہیں، جن میں سے ایک پیش گوئی یہ بھی ہے کہ ایران ، پاکستان اور خطے میں جو مسلم ممالک ہیں یعنی کہ افغانستان، یہ ایک وقت آئے گا کہ ایک ساتھ اکٹھے ہونگے اور جب یہ اکٹھے ہونگے تب ہی غزوہ ہند کا وقت ہوگا .

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے وفد کے ہمراہ پاکستان واپسی کے لیے امریکہ کی حدود سے نکل چکے تھے کہ واشنگٹن سے دوبارہ اواپسی کی درخواست کی گئی، وزیر اعظم عمران خان کو امریکہ واپس بلا کر انہیں ہدایات کی گئیں کہ وہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں، اگر وزیر اعظم عمران خان ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر انہیں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ٹاسک سونپا جائے گا. دوبارہ واپس بلانے کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور امریکہ کی ہائی آفیشل شخصیات کی واشنگٹن میں دوبارہ ملاقات ہوئی . ٹاسک ملنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کمرشل جہاز کے ذریعے امریکہ سے سعودی عرب پہنچے جہاں پر لاؤنج میں ہی انکی سعودی عرب کی ہائی آفیشل شخصیات سے ملاقات ہوئی . اس ملاقات میں عمران خان سے درخواست کی گئی کہ وہ سعود عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں اپنا کردار ادا کریں، پاکستان واپسی پر عمران خان نے چین جانے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ پاکستانی وزیر اعظم چاہتے تھے کہ وہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے دوست ملک چائینہ کو بھی اپنے اعتماد میں لیں.

..

Top