single photo

آرٹیکل 256کی خلاف ورزی ۔۔5سال قید کی سزا

      اسلام آباد(قدرت روزنامہ) جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے لیے جمیعت علمائے اسلام (ف) کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں . جمعیت علمائے اسلام ف کے رضاکاروں نے آزادی مارچ کی تیاریوں کے حوالے سے پشاور میں ریہرسل کرتے ہوئے پارٹی قائدین کی حفاظت کا حلف اٹھایا .

رضاکاروں نے آزادی مارچ میں نظم و نسق اور کی پابندی کا بھی حلف اٹھایا .یہ رضاکار خاکی رنگ کی وردی میں ملبوس تھے جن کی تصاویر اور ویڈیوز زبھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں.صارفین نے جمعیت علمائے اسلام ف کے رضاکاروں کے یونیفارم کے رنگ کے چناؤ پر بھی تنقید کی ہے.تاہم اس طرح سے وردری بنانا آرٹیکل 256کی خلاف ورزی بھی ہے جس کی سزا 5 سال قید ہے. اس آرٹیکل کے تحت ریاستی اداروں کے علاوہ کوئی بھی تنظیم یا شخص کوئی بھی یونیفارم فورس بنائے تو نیشنل ایکشن پلان کے مطابق جرم کا مرتکب قرار پائے گا. جمعیت علمائے اسلام ف کے رضاکاروں کی خاکی وردی میں ملبوس تصاویر تو سوشل میڈیا پر وائرل تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی ردِعمل سامنے آیا .خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کی تیاریوں اور ٹریننگ کی کئی ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں جس میں ورکرز کو ٹریننگ اور پریڈ کرتے ہوئے دیکھا گیا. سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ جے یو آئی (ف) کے کارکنان آزادی مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں جبکہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان چبوترے پر کھڑے ہو کر تیاریوں اور ورکرز کی پریڈ کا جائزہ لے رہے ہیں.

..

Top