single photo

اسمبلیاں تحلیل کر کے صدارتی نظام لانے کی تیاریاں۔۔۔!!! جو کام عمران خان کو 2 مہینے پہلے کرنا چاہیئے تھا وہ آج کرنے پر کیسے آمادہ ہوگئے ؟ جانیئے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ عمران خان میرا مشورہ مان لیتے تو حالات تبدیل ہونے تھے، انہیں اسمبلیاں تحلیل کر دینی چاہیئے تھیں، اور انتخابات کے ذریعے صدارتی نظام کی جانب چلے جانا چاہیئے تھا . تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ یہ قدم اُٹھا لے، لیکن اگر مزید 3یا4 مہینے انتظار کیا گیا تو حکومت کے ہاتھ سے یہ موقع بھی نکل جائے گا، آج وزیر اعظم عمران خان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اسمبلیاں تحلیل کریںاور ملک میں صدارتی نظام لے آئیں،

لیکن یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر عمران خان نے آج ایسا کر دیا تو مولانا فضل الرحمان یہ دعویٰ کریں گے کہ عمران خان نے انکے دھرنے کے دباؤ کی وجہ سے یہ قدم اُٹھا یا ہے .

ضرور پڑھیں: اسمبلیاں تحلیل کرکے نئےاِنتخابات کرائےجائیں،جعلی پارلیمنٹ کو قانون بنانے کاحق نہیں دے سکتے:مولانا فضل الرحمان

اس لیے اب عمران خان کے پاس یہ آپشن بھی نہیں رہا . دوسری جانب گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اچانک اعلان کیا کہ تمام کارکنان 27 اکتوبر کو نہیں بلکہ 31 اکتوبر کو ایک ساتھ اسلام آباد میں داخل ہونگے، اس کے علاوہ 27 اکتوبر کو جو جلوس ہونگے وہ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ہی منایا جائے گا،

لیکن مولانا فضل الرحمان نے اچانک دھرنے کی تاریخ تبدیل کیوں کی اس کو لے کر کافی سوالات اُٹھائے جارہے ہیں، یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ آزادی مارچ اور دھرنے کی تاریخ کو تبدیلی کو لے کر مولانا فضل الرحمان نے شاہ محمود قریشی کی بات مان لی ہے یا پھر اسکے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟ کیونکہ جیسے ہی مولانا کی جانب سے جب یہ اعلان کیا گیا تو شاہ محمود قریشی کی جانب سے مولانا سے یہ درخواست کی گئی کہ مولانا اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں ، کیونکہ 27 اکتوبر ہی وہ تاریخ ہے جس تاریخ کو بھارت نے مقبوضۃ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا اور اگر مولانا اس تاریخ کو احتجاج یا دھرنا دیتے ہیں تو پوری دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟

اس دن تو کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم کشمیریوں کی آواز بنے نہ کہ اپنے الگ الگ دھرنے دے کر بیٹھ جائیں ، مولانا فضل الرحمان کی حب الوطنی اور کشمیر کے ساتھ محبت پر ششک نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر مولونا نے اپنے دھرنے کی تاریخ نہ بدلی تو پھر کشمیر کاز کو بہت برے طریقے سے نقصان پہنچے گا. تو جیسے ہی مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دھرنے اور احتجاج کی تاریخوں کی تبدیلی کا اعلان کیا گیا تو ملک میں نئی بحث شروع ہوگئی کہ کیا مولانا نے شاہ محمود قریشی کی بات کو مانتے ہوئے یہ قدم اُٹھایا ہے، کیونکہ اس سے پہلے یہ خبریں بھی گردش میں تھیں کہ شاہ محمود قریشی حکومت میں لابنگ کر رہے ہیں.

..

ضرور پڑھیں: پہلے دن ہی کہہ دیا تھا وزیراعظم کا استعفیٰ ہو گا نہ ہی اسمبلیاں تحلیل ہوں گی، چودھری پرویزالٰہی

Top