single photo

ناقابل یقین خبر : کل عمران خان کی چین میں موجودگی کے دوران ہی چینی مسلمانوں پر کیا ظلم ڈھا دیا گیا ؟ افسوسناک انکشاف

سنکیانگ(قدرت روزنامہ)چین کے مسلم اقلیتی علاقے سنکیانگ میں ایغور آبادی کو کئی پہلوؤں سے حکومتی کریک ڈاؤن کا سامنا ہے . سنکیانگ کی ایغور آبادی مسلمان ہے یہ نسلی طور پر ترکی النسل مسلمان ہیں اور یہ چین کے مغربی علاقے میں آباد ہیں جہاں ان کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے .

وہ خود کو ثقافتی اور نسلی طور پر وسط ایشیائی علاقوں سے قریب تر دیکھتے ہیں اور ان کی زبان ترک زبان سے بہت حد تک مماثلت رکھتی ہے. یہ چین کے انتہائی مغرب میں واقع بڑا صوبہ ہے اور یہ ملک کا سب سے بڑا علاقہ ہے. تبت کی طرح یہ ایک اصولی طور پر خودمختار علاقہ ہے اور بیجنگ سے علیحدہ اس کی اپنی حکومت ہے. لیکن عملی طور پر مرکزی حکومت کی جانب سے اس پر بہت زیادہ پابندیاں عائد ہیں. اور اس صوبے میں علیحدگی پسندی کی تحریک بھی چل رہی ہے. کئی سرگرم ایغور کارکنوں کے مطابق چینی حکومت نے اب اس مسلم آبادی کے قبرستانوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے. قبروں کے انہدام کے بعد وہاں پر دفن کیے گئے مردوں کی ہڈیاں بھی دکھائی دیتی ہیں. کئی اہم شخصیات کے مزارات بھی گرا دیے گئے ہیں. ایغور آبادی کے مطابق چینی حکومت اُن کی ثقافت کو مٹانے کے ساتھ ساتھ ان کے آباء و اجداد کی نشانیوں کو ملیامیٹ کرنے کی بھی کوشش میں ہے.میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی قبروں کو انتہائی لاپرواہی کے ساتھ ختم کیا گیا ہے. وہاں منہدم کی گئی قبروں سے باہر پڑی ہوئی انسانی ہڈیاں تک دیکھی جا سکتی ہیں. کئی مزارات کو گرا دیا گیا اور وہاں منقش عمارات کی جگہ اب ملبے کے ڈھیر ہیں. مقامی حکومتی انتظامیہ کا موقف ہے کہ شہروں کے پھیلاؤ کے باعث انتہائی قدیمی قبروں کو ختم کیا گیا ہے. ایغور آبادی اس حکومتی موقف سے اتفاق نہیں کرتی بلکہ اسے ایغور نسل کے خلاف برسوں سے جاری حکومتی کریک ڈاؤن کا تسلسل قرار دیتی ہے.ایک ایغور کارکن صالح ہدیٰ یار کا کہنا ہے کہ یہ چینی حکومت کی ایک نئی مذموم کوشش ہے کہ ایغور آبادی کی شناخت کو ہی ختم کر دیا جائے تا کہ یہ نسل اپنی ماضی سے جڑی پہچان سے محروم ہو جائے اور ایغور قوم بھی چینی نسل ہان کی آبادی جیسی ہو کر رہ جائے. ہدیٰ یار کے خاندان کے مرحومین کی قبروں کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے.صالح ہدیٰ یار کا مزید کہنا ہے کہ چینی حکومت ایغور نسل کی تاریخی باقیات کو بھی مٹا دینا چاہتی ہے تا کہ اس قوم کے لوگوں کا ماضی، تاریخ، اور گزشتہ نسلوں سے رابطہ پوری طرح مٹ جائے. ہدیٰ یار کے مطابق ایسے اقدامات سے ایغور آبادی کو رنج تو پہنچایا جا سکتا ہے لیکن اس کے وقار، پہچان اور شناخت میں کوئی کمی نہیں کی جا سکتی. اندازوں کے مطابق اس وقت دس لاکھ کے لگ بھگ ایغور باشندے ایک طرح کے حراستی مراکز جیسے کیمپوں میں بند ہیں اور وہاں ان کی ‘تربیت‘ کے نام پر ذہنی تربیت کا عمل جاری ہے. چینی حکومت ان ‘حراستی مراکز‘ کو ‘تربیتی سینٹر‘ قرار دیتی ہے اور یہ بھی کہتی ہے کہ ان مراکز میں ایغور باشندوں کو انتہا پسندی سے محفوظ رکھنے کے خصوصی تربیتی پروگرام بھی جاری ہیں.چینی حکومت سنکیانگ میں پائی جانے والی انتشار کی صورت حال پر بین الاقوامی تنقید کو خاطر میں نہیں لا رہی اور ایغور آبادی کے ساتھ روا سلوک کو درست قرار دیتی ہے. ابھی رواں ہفتے کے دوران ہی سنکیانگ کی ایغور آبادی پر بیجنگ کے کریک ڈاؤن کے تناظر میں امریکا نے چین کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان بھی کیا تھا اور کم از کم اٹھائیس سرکاری اداروں اور کاروباری کمپنیوں کو بلیک لسٹ بھی کر دیا تھا.

..

Top