single photo

ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو حرام قرار دے دیا

تہران (قدرت روزنامہ) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو حرام قرار دے دیا ہے . ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران جوہری ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے ہمیشہ دور رہا ہے، ایرانی حکومت ایٹم بم بنانے کی کوشش کے الزامات کو ہمیشہ مسترد کرتی آئی ہے .

ضرور پڑھیں: وہ ملک جس نے جوہری ہتھیاروں کے لئے مختلف بینکوں سے 2 ارب ڈالر چوری کئے، اقوام متحدہ نے دعویٰ کردیا

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملک کےممتاز دانشوروں اور سائنسدانوں نے ملاقات کی ہے. اس دوران انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاربنانے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود اس سے گریز کرتے ہیں اور اسکا استعمال حرام سمجھتے ہیں. انہوں نے کہا ہے کہ اسلام میں ہلاکت خیز جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور ان کا استعمال حرام ہے کیوں کہ ایسے ہتھیاروں سے بڑے پیمانے پر معصوم لوگوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں اور جس کے اثرات نسلوں تک جاری رہتے ہیں. انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے یا اس کے استعمال کی خواہش ظاہر نہیں کی، جوہری

ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال اسلام میں منع ہے.یاد رہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے عالمی قوتوں نے ایران سے 2005ء میں جوہری معاہدہ کیا تھا. ایران ہمیشہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے تاہم امریکا نے ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا الزام عائد کرتے ہوئے 2018ء میں معاہدے سے دست برداری کا اعلان کیا تھا. اب ایران کی سب سے طاقتور شخصیت آیت اللہ خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو حرام قرار دے دیا ہے. امریکہ کی جانب سے عالمی جوہری معاہدے سے دست بردار ہونے اور پے در پے معاشی پابندیاں عائد کرنے پر برہمی اظہار کرتے ہوئے ایران نے بھی ردعمل میں عالمی جوہری معاہدے کی ایک شق کی خلاف ورزی کی اور یورینیم افزودگی کی مقررہ حد کو عبور کرکے زائد یورینیم افزودہ کی تھی.

..

ضرور پڑھیں: دنیا بھر میں موجود جوہری ہتھیاروں کا تقریباً 90 فیصد صرف کن 2 ممالک کے پاس ہے؟رپورٹ میں حیرت انگیز انکشافات

Top