single photo

جمعیت علمائے اسلام نے دھرنے میں شریک ہونے کیلئے عمر کی حد کا تعین کر دیا

      اسلام آباد (قدرت روزنامہ) جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ ہمارے دھرنے میں 18سال سے کم عمر کے افراد شریک نہیں ہوں گے . تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف نے دھرنے کے شرکاء کے لییے عمر کی حد کا تعین کر لیا ہے .

ضرور پڑھیں: جمعیت علمائے اسلام کے ملک بھر میں مختلف شاہراہوں پر دھرنے جاری،مسافروں کو آمد و رفت میں پریشانی

اس حوالے سے مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ وہ افراد جن کی عمر 18 سال سے کم ہے وہ دھرنے میں شریک نہیں ہوں گے. پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سب نے دیکھے کہ اس میں کیا ہوتا تھا.عمران خان کے دھرنوں کو لوگوں نے دیکھا،اس میں شیر خوار بچے بھی شریک ہوتے تھے.مولانا عبدالغفور حیدری نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیان چھوٹا منہ بڑی بات ہے .وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا بےشک 27اکتوبر کر گھر سے نہ نکلیں. انہوں نے مزید کہا کہ ڈی چوک پر دو روز پہلے ریلی نکلی گئی، کیا دفعہ 144 ہمارے لیے ہے. اس سے قبل خواتین پر جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شرکت کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی.ذرائع کے مطابق سربراہ جمیعت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ ن کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے آزادی مارچ اور اسلام آباد دھرنے میں خواتین کی شرکت پر پابندی کے فیصلے سے آگاہ کیا. البتہ پارٹی کی جانب سے اس فیصلے کے پیچھے کہ وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی. خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کے وقت مولانا فضل الرحمان نے دھرنے میں خواتین کی موجودگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا . یہی نہیں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کا مُجروں سے بھی موازنہ کیا تھا. مبصرین کے مطابق جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اس فیصلے کے پیچھے یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ کسی کی تنقید کا نشانہ بننا نہیں چاہتے.

..

ضرور پڑھیں: فضل الرحمان کا بھی خادم رضوی جیسا حال کرنے کی تیاریاں۔۔۔!!! دھرنا ختم ہوتے ہی حکومت نے ایکشن لینے کی تیاریاں کر لیں، جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان کے روپوش ہونے کا وقت

Top