single photo

مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے ہندو وزیراعلیٰ لانے کا فیصلہ کر لیا

      اسلام آباد(قدرت روزنامہ) مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے ہندو وزیراعلیٰ لانے کی سازش شروع کر دی ہے . تفصیلات کے مطابق مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں حلقہ بندیوں کی آڑ میں ہندو وزیر اعلیٰ کے انتخاب کی راہ ہموار کرنے کی سازش کی جا رہی ہے .

ضرور پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کوتقسیم کر کے مسلم اکثریتی تشخص ختم کیا جائے گا، جنوری کے اوائل میں اس منصوبہ پر عمل کیا جائے گا، ذرائع

اس حوالے سے بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی کشمیر شاخ کے سربراہ رویندر راعنا نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ پارٹی حلقہ بندیوں کے بعد جموں وکشمیر میں اپنا پہلا وزیر اعلیٰ لانا چاہتی ہے . جموں وکشمیر ایک یونٹ ہے اور بی جے پی کشمیر کے صدر ہونے کی حیثیت سے وہ پر اُمید ہیں کہ جلد ہی مقبوضہ کشمیرمیں بی جے پی کی حکومت ہو گی . مقبوضہ کشمیرمیں حلقہ بندیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اسمبلی انتخابات کے لیے حلقہ بندی کے معاملے پر حتمی فیصلہ کرے گا. جموں وکشمیر پر بھارتی تسلط کو مستحکم کرنے کے سلسلے میں بی جے پی اور عدلیہ کے درمیان ساز باز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پول پینل سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کرے گا جو حلقہ بندیوں کے حوالے سے تمام قواعد و ضوابط پر عمل کرے گا . یاد رہے کہ مودی سرکار نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے اب تک وادی میں کرفیو نافذ ہے. مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کو دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے جس کی وجہ سے کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں. گھروں میں محصور کشمیری قابض بھارتی فوج کی بربریت کا شکار ہیں ، قابض فوج رات گئے لوگوں کے گھروں میں دھاوا بول دیتی ہے. اب تک کئی کشمیریوں کو آپریشن کی آڑ میں شہید بھی کیا جا چکا ہے.

..

ضرور پڑھیں: مقبوضہ کشمیر،خوش کن ہوا کا جھونکا، اضافی فوجی نفری کا انخلا شروع

Top