single photo

مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں دہشت گردی کا خطرہ ۔۔۔۔ کس طرف سے حملے کا امکان ہے ؟ اداروں نے الرٹ جاری کر دیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) جمیعت علماۓ اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کردیا تھا اس اعلان کے بعد اہم اداروں نے حکومت سے مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کی آڑ میں دہشتگردی کے خدشے کا اظہار کردیا ہے . ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے حکومت مخالف آزادی مارچ کی تاریخ کے اعلان کے بعد حکومت اور اہم سکیورٹی کے ادارے متحرک ہو گئے ہیں .

ضرور پڑھیں: پارلیمنٹ پر لعنت بیجنے والے آج اپنی کرسیاں بچانے کیلئے مولانا فضل الرحمٰن کے پائوں پڑ رہے ہیں‘حیرت انگیز دعویٰ کر دیا گیا

جبکہ دہشتگردی کا خدشہ سامنے آنے پر حکومت کی جانب سے آزادی مارچ کی کسی بھی صورت اجازت نہ دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے .تاہم موجودہ صورتحال کے تناظر میں آزادی مارچ کی اجازت دینے یا نہ دینے کے بارے میں وزیراعظم عمران خان اہم اداروں سے مشاورت کرنے کیلئے اجلاس طلب کرینگے .علاوہ ازیں وفاقی وزارت داخلہ نے بھی صوبوں سے مولانا فضل الرحمٰن کے حمایتی مدارس انکے اساتذہ اور طلبا کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں. مولانا فضل الرحمٰن کا ساتھ دینے والی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کی لسٹیں بھی طلب کر لی گئی ہیں. اس ساری صورت حال کے باوجود مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے ’’میں نہ مانوں‘‘ کی ضد اور 27اکتوبر کے دن کا انتخاب کرنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان بھی اب ان کو رعایت نہ دینے کے موڈ میں دکھائی نہیں دے رہے.ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض اہم اداروں نے حکومت کو آزادی مارچ سے متعلق آگاہ کر دیا ہے کہ اس میں مخصوص مکاتب فکر کے افراد شامل ہونگے ،اگر دہشتگردی کی کارروائی ہوئی تو مسلکی تصادم کا بھی خدشہ موجود ہے جس کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا.یہی وجہ ہے کہ اب حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن کو آزادی مارچ اور دھرنے کی اجازت نہ دینے پر غور شروع کر دیا ہے اس حوالے سے آئینی اور قانونی پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ اس کو قانونی طریقے سے روکا جا سکے اور ممکنہ دہشتگردی کے خدشات کو ٹالا جا سکے.

..

ضرور پڑھیں: شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان کیا باتیں ہوئیں، اندرونی کہانی سامنے آ گئی

Top