single photo

پنجاب میں سستی روٹی اسکیم بند، آڈٹ کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پنجاب حکومت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی قائم کردہ ’سستی روٹی اتھارٹی‘ کو غیر فعال کرنے اور اسکیم کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کرلیا . ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر برائے اطلاعات اسلم اقبال نے بتایا کہ سستی روٹی اتھارٹی کا آڈٹ کرایا جائے گا اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی تو ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی .

واضح رہے کہ صوبے میں 2008 سے 2013 کے دوران سستی روٹی اسکیم کے تحت محکمہ خوراک پنجاب کی طرف سے 5 لاکھ 4 ہزار 325 میٹرک ٹن گندم جاری ہوئی جس پر سبسڈی کی مد میں 13 ارب سے زائد رقم خرچ ہوئی. بعدازاں 21 فروری کو پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے بھی سستی روٹی اسکیم کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیا تھا.

سستی روٹی کی یہ اسکیم سابق دور حکومت میں 2008 سے 2013 کے درمیان چلائی گئی تھی. ادھر صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں وزیراطلاعات نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے 13 رکنی پنجاب لوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن تشکیل دیا ہے جس کے تحت صوبائی ٹیکس سے متعلق فارمولا تیار ہوگا اور اس کی سربراہی وزیر خزانہ کریں گے. صوبائی کابینہ کے اجلاس میں گریڈ ایک سے 4 تک خالی نشستوں کے لیے تعیناتی پر عائد پابندی ہٹاتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے متعلقہ اداروں کو اپنی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی. صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ اراکین کو ڈینگی سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا گیا. کابینہ کے اجلاس میں بہاولپور سے لودھراں کے لیے اسپیڈو بس آپریشن کو شروع کرنے کے لیے 6 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دے دی. اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تمام صوبائی وزرا کو اپنے متعلقہ اضلاع میں کھلی کچری لگا کر شکایات کا ازالہ کرنے پر زور دیا. علاوہ ازیں کابینہ کے اجلاس میں افتخار تاج میاں کو پنجاب پینشن فنڈ منیجمنٹ کمیٹی میں بطور نان آفیشل ممبر تعینات کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی.

..

Top