single photo

قصور میں لڑکوں کے جنسی استحصال کے مزید 3 مقدمات درج

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) ضلع قصور کے علاقے پتوکی میں کم عمر لڑکوں کے جنسی استحصال کے مزید 3 مقدمات درج کرلیے گئے . چونیاں واقعے کے ملزم کی گرفتاری کی بعد استحصال کا شکار مزید بچوں کے اہلِ خانہ نے انصاف کی امید پر اپنی آواز بلند کرنا شروع کردی .

ضرور پڑھیں: ’’ ہر نئی لڑکی کو جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مجھے خود بھی ۔ ۔ ۔‘‘ معروف بھارتی اداکارہ ادیتی راؤ نے بھارتی فلم انڈسٹری کا شرمناک چہرہ بے نقاب کردیا

پتوکی پولیس نے ایک حساس ادارے کے اہلکار کے خلاف بچے کو بدسلوکی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ درج کیا، ملزم اس 5 رکنی گروہ کا حصہ ہے جو بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمے میں پہلے سے ہی نامزد ہے. ملزم مبینہ طور پر متاثرہ لڑکے کو اس کی سالگرہ منانے کے لیے گاؤں ناروکی ماجھا میں ایک کرائے گھر میں لے کر گیا تھا، بعد ازاں جب ملزم نے لڑکے کو اس کی قابلِ اعتراض تصاویر سے بلیک میل کرنے کی کوشش کی تو بچے نے اپنے والد کو آگاہ کردیا. اس سے قبل پولیس نے پیر کے روز بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث 5 رکنی گروہ کو پکڑا تھا جو گزشتہ 3 سال سے تیسری جماعت کے بچے کا استحصال کررہا تھا. پولیس کے مطابق ملزم کے علاوہ اس گروہ کا ایک اور رکن بھی حساس ادارے کا اہلکار ہے جو فرار ہونے میں کامیاب رہا جبکہ 4 افراد گرفتار ہیں. پولیس نے گینگ اراکین کے قبضے سے تصاویر اور ویڈیوز برآ مد کرنے کا دعویٰ بھی کیا. دوسری جانب ملزم جس ادارے سے تعلق رکھتا ہے

اس نے مبینہ طور پر اسے حراست میں لے کر اپنے اصولوں کے تحت کارروائی کا آغاز کردیا ہے. پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذکورہ گینگ 10 سے 20 سال کے لڑکوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کے بعد ویڈیو اور تصاویر سے بلیک میل کرتا تھا. ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ پولیس انویسٹی گیشن مرزا مقدس نے بتایا کہ پولیس نے حساس ادارے سے تعلق رکھنے والے دونوں ملزمان کو گرفتار نہیں کیا ہم ضابطے پر عمل کرتے ہوئے ملزمان سے تفتیش کے لیے ان کے اداروں سے تحریری طور پر حوالگی کا مطالبہ کریں گے. دوسری جانب پتوکی شہر کی پولیس نے بچوں کے استحصال کے 2 مزید مقدمات درج کیے، پہلے کیس میں ملزم نے 10 سالہ لڑکے کو کھیتوں میں لے جا کر اس کا ریپ کیا. درج کیے گئے دوسرے مقدمے میں ملزم نے 20 روز قبل 18 سالہ لڑکے کو ریپ کرنے کی کوشش کی، پولیس ان دونوں مقدمات کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے.

..

ضرور پڑھیں: اسلام آباد پولیس لائنز مین خواتین اہلکاروں کے جنسی استحصال کے واقعات ۔۔۔۔اندرونی کہانی کیا نکلی ؟ ملک کے معروف کرائم رپورٹر نے تفصیلات بیان کر دیں

Top