single photo

شہید لانس نائیک تیمور اسلم کی شہادت سے ایک گھنٹہ قبل اہلیہ سے کی جانے والی گفتگو

لاہور (قدرت روزنامہ) معروف صحافی اسلم لودھی کا اپنے کالم " لانس نائیک تیمور اسلم" میں کہنا ہے کہ جمعہ کا دن تھا، نمازِ عشا کے بعد مساجد میں اعلان ہوا کہ کنٹرول لائن پر وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے جوان لانس نائیک تیمور اسلم جو شہید ہو گئے تھے ان کی نماز جنازہ والٹن روڈ لاہور کینٹ سے ملحقہ گراؤنڈ میں 10 بجےپڑھائی جائے گی . پاک فوج اور اس کے شہیدوں سے مجھے والہانہ محبت ہے .

یہی محبت مجھے ان شہیدوں کے گھروں تک لے جاتی ہے.اسلم لودھی لکھتے ہیں کہ جیسے ہی میں متعقلہ گراؤنڈ پہنچا تو ایک جمِ غفیر پہلے سے وہاں موجود تھا.دور دور تک لوگ پھولوں کے ہار لیے شہید کی جسد خاکی کی آمد کے منتظر تھے.

اسلم لودھی شہید کی زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیمور اسلم شہید والٹن روڈ کینٹ میں 1991ء میں پیدا ہوئے. جہاں ان کے والدین قیام پذیر تھے.تیمور اپنے والدین کا سب سے بڑا ابیٹا تھا جب کہ اسی گھر میں ایک کی تین بہنیں اور ایک بھائی مبین بھی ہے.تیمور نے میٹرک کا امتحان کینٹ ایریا کی مقبول ترین تعلیمی درسگاہ "قربان اینڈ سرویا ایجوکیشنکل ٹرسٹ" والٹن روڈ سے پاس کیا.بعدازاں تعلیم کو خیر آباد کہہ کر فوج میں بھرتی ہو گئے.وہ فوج سے اتنی محبت کرتے کہ جہاں کوئی باوردی فوجی نظر آتا تو اسے سیلوٹ کرتے. تیمور اسلم 2011ء میں فوج میں بطور سپاہی بھرتی ہو کر 12بلوچ رجمنٹ کا حصہ بنے.بعدازاں یہ رجمنٹ وزیرستان چلی گئی جہاں کتنی بار لانس نائیک تیمور اسلم کا سامنا دہشتگردوں سے ہوا.ہر مقابلے میں تیمور اسلم نے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا.9 ستمبر 2017ء کو وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے

.اللہ نے ایک بیٹی سے نوازا.تیمور جب قبائلی علاقوں سے فون پر بات کرتا تو اپنی بیٹی کی آواز سنانے کی فرمائش کرتا. چند ماہ قبل انہیں وزیرستان سے کنٹرول لائن پر تعینات کیا گیا جہاں سے وادی لیپا کی جبار پوسٹ پر انہیں بھیج دیا گیا.یہ وہ مقام پے کہ جہاں بھارتی فوج کے ساتھ روزانہ جھڑپیں ہوتی تھی.اپنی شہادت سے ایک گھنٹہ قبل تیمور اسلم نے گھر فون کیا والدہ اور اہلیہ سے بات کی،اہلیہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگلے مورچوں میں جا رہا ہوں،اگر زندگی رہی تو بات ہو گی وگرنہ خدا حافظ .یہ کہتے ہوئے تیمور اسلم بیس کیمپ سے وادی لیپا کی جبار پوسٹ کی جانب روانہ ہوئے.جہاں فائرنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا.جس کا موثر جواب پاک فوج کے جوان دے رہے تھے.اسی دوران دشمن کی جانب سے توپ خانے سے گولہ باری شروع ہو گئی.اس گولہ باری میں پاک فوج کے تین جوان شہید ہوئے جن میں ایک تیمور اسلم بھی تھے.

..

Top