single photo

وزیراعظم عمران خان نیویارک سے واپسی پر جدہ میں قیام کے بعد وطن روانہ

جدہ (قدرت روزنامہ)وزیراعظم عمران خان، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد وطن واپسی کے لیے سعودی ایئرلائنز کی کمرشل پرواز کے ذریعے نیویارک سے جدہ پہنچے، جہاں مختصر قیام کے بعد وہ وطن واپسی کے لیے روانہ ہوئے . وزیراعظم عمران خان مقامی وقت کے مطابق دن کے 2 بجے نیویارک ایئرپورٹ سے جدہ کے لیے روانہ ہوئے جہاں وہ اتوار کی صبح 8 بج کر 40 منٹ پر پہنچے .

ضرور پڑھیں: عمران خان کاجہازخراب نہیں تھا،وزیر اعظم کو واپس نیویارک بلایا گیا تھالیکن کیوں؟بڑا دعویٰ سامنے آگیا

وہاں مختصر قیام کے بعد عمران خان اپنے وفد کے ہمراہ سعودی عرب سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے. قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی امریکا سے پاکستان واپسی کے دوران ان کے طیارے میں پیدا ہونے والی فنی خرابی کے باعث پرواز کو واپس نیویارک روانہ کردیا گیا تھا جہاں انہوں نے کچھ وقت گزارا اور پھر دوبارہ کینیڈی ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے تھے.

سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سعودی حکومت کی جانب سے دیے گئے طیارے میں سفر کر رہے تھے. وزیراعظم کے اس خصوصی طیارے نے جمعہ کی رات نیویارک کے کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پرواز کی جس کے 2 گھنٹے بعد ہی اس میں فنی خرابی پیدا ہوگئی تھی. طیارے کی خرابی کو دور کرنے کے لیے اسے واپس نیویارک کے کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ روانہ کردیا گیا تھا. اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے وزیراعظم کو نیویارک سے خیرباد کہا تھا لیکن طیارے میں خرابی کی اطلاع کے بعد وہ واپس ایئرپورٹ پہنچیں. پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما نعیم الحق نے وزیراعظم کے طیارے میں فنی خرابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'جہاز میں فنی خرابی کے باعث وزیراعظم عمران خان رات نیویارک میں ہوٹل میں گزاریں گے'.

وزیراعظم طیارے کی تکنیکی خرابی کے دور ہونے تک ایئرپورٹ میں انتظار کر رہے تھے لیکن تکنیکی ماہرین نے کہا کہ فنی خرابی کو ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا اور وہ ہفتے کو ہی واپس وطن روانہ ہوں گے. دریں اثنا ڈاکٹر ملیحہ لودھی قافلے کی صورت میں وزیراعظم عمران خان کو واپس روز ویلٹ ہوٹل لے گئیں جہاں وزیراعظم اپنے دورہ نیویارک کے دوران مقیم تھے. حکام کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا خصوصی طیارہ ٹھیک نہیں ہوتا تو وہ کمرشل پرواز کے ذریعے واپس پاکستان روانہ ہوجائیں گے کیونکہ وہ زلزلے زدہ علاقوں کا دورہ اور متاثرین سے ملنا چاہتے ہیں. خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ نیویارک کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے علاوہ دیگر بڑے فورمز پر مقبوضہ جموں و کشمیر کا معاملہ دنیا کے سامنے موثر انداز میں اٹھایا.

انہوں نے مختلف ممالک کے سربراہان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران عالمی برادری کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے کچھ غلط کیا تو ہم آخر دم تک لڑیں گے اور اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ خطرناک ہوں گے. واضح رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے لیے آئین کے آرٹیکل 370 اور35 اے کی منسوخی کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ کرفیو، سیاسی قیادت اور کارکنوں کی گرفتاری، موبائل، انٹرنیٹ سروس کی معطلی پر پاکستان بھر میں مسلسل احتجاج کیا جارہا ہے اور بھارتی حکومت کی بھرپور مذمت کی گئی. پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی مظالم پر مختلف شہروں اور آزاد کشمیر میں بھی احتجاج کررہی ہیں.

..

ضرور پڑھیں: ’طیارہ خراب نہیں تھا، وزیراعظم کو واپس نیویارک بلایا گیا تھا‘

Top