single photo

حوثیوں اور ایران سے تنازعہ،ایران نواز حوثی ملیشیا کیخلاف بڑی جنگ شروع، عرب اتحادی لڑاکاطیاروں کی شدیدبمباری،دھماکہ خیز اعلان کردیاگیا

صنعاء (قدرت روزنامہ)عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے الصفرا کے علاقوں شجع، مربع الحماد میں حوثیوں کی کمین گاہوں اور محفوظ ٹھکانوں پر بمباری کی ہے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مسلح فوج کے میڈیا سینٹر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے الصفرا کے علاقوں شجع، مربع الحماد میں حوثیوں کی کمین گاہوں اور محفوظ ٹھکانوں پر بمباری کی . یاد رہے کہ حوثی ان مقامات کو اسمبلی پوائنٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں جہاں وہ اسلحہ، راشن اور دیگر سامان حرب رکھتے ہیں .

عرب اتحاد کی حمایت یافتہ یمنی فوج حوثیوں کے گڑھ صعدہ میں اٹھ محاذوں پر فوجی کارروائیوں میں مصروف ہے.یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں بغاوت اور ملیشیا کا باب ہمیشہ کے لئے بند ہونے والا ہے. ریاستی ادارے اپنا کام دوبارہ شروع کریں گے. یمن اپنے علاقائی اور عالمی امور میں ایک مرتبہ پھر پہلے کی طرح فعال کردار ادا کرے گا.میڈیارپورٹس کے مطابق ان خیالات کا اظہار انھوں نے سعودی دارلحکومت الریاض میں یمنی علاقے الجوف کے گورنر جنرل امین العکیمی سے ایک ملاقات میں کیا.منصور ھادی نے یمنی عوام اور فوج کی صفوں میں اتحاد اور مزید تیاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح وہ ایران نواز حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ علاقے واگذار کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے.علاوہ ازیں یمن میں پانچ سال قبل ایران کی حمایت اور مدد سے شیعہ ملیشیا حوثی گروپ نے حکومت وقت کے خلاف بغاوت کرکے اس کا تختہ الٹ دیا. اس کے بعد ملک ایک نئی اور تباہ کن خانہ جنگی کا شکار ہوا اور آج پانچ سال بعد یمن کے عوام بدترین انسانی بحران کا سامنا کررہے ہیں.عرب ٹی وی کے مطابق یمنی باغیوں نے ملک کے عوام کو جرائم، دہشت گردی، خون خرابے، کرپشن، لوٹ مار اور بھوک و افلاس کے سوا کچھ نہیں دیا. حوثیوں کی بغاوت کے نتیجے میں یمن اس وقت ملک دنیا کے بڑے بحران زدہ ملکوں میں شامل ہوچکا ہے. حوثی باغیوں نے بھی لوگوں کے خلاف اپنا اسلحہ اٹھایا اور پانچ سال پیشتر انہوں نے دارالحکومت صنعا کے مرکز میں اپنی پہلی گولی چلائی. یمن جو ایک خوش حال اور پرامن ملک تھا حوثیوں کی دہشت گردی کی آماج گاہ بن کر غربت، بھوک اور لوٹ مار کا مرکز بن چکا ہے.موجودہ بغاوت کو یمن کی جدید تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کے طور پر جانا جاتا ہے.اس انقلاب کے یمن میں دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران پیدا کیا ہے. حوثی باغی اسے اپنی کامیابیوں میں شمار کرتے ہیں.اس جنگ کو تضادات کی جنگ بھی کہا جاتا ہے. عوام بھوک، ننگ، اور وبائی بیماری کے دہانے پر زندگی گزار رہے ہیں.بلیک مارکیٹ پرقبضے نے حوثی لیڈروں کی دولت میں بے پناہ اضافہ کیا. تین سال سے ملک کی آمدن کے بیشتر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن حوثی باغیوں کی جیبوں میں جارہی ہے.یہ بدعنوانی ہی ہے جس نے لوگوں کو پانی، ایندھن اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم کردیا.یمن میں جاری لڑائی کے دوران جہاں لاکھوں بچے اسکول جانے سے محروم ہیں وہیں

حوثی ملیشیا ان کم سن جانوں کو جنگ کا ایندھن بنانے کے جرم سے بھی باز نہیں آرہی. بچوں کو قلم اور کتاب تھمانے کے بجائے ان کے ہاتھوں میں بندوق تھمائی جاتی ہے.غربت زدہ والدین کو مجبور کیاجاتا ہیکہ وہ چند کوڑیوں کے عوض اپنے بیٹے کو جنگ میں بھرتی کرنے کی اجازت دیں.اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق 50 لاکھ افراد جنگ کے باعث اس وقت پناہ گزین کیمپوں میں ہیں. رہی سہی کسر ہیضے کی وبا نے نکال دی ہے. اگرچہ حوثی باغی نعرہ توامریکا اور اسرائیل مردہ بادکا نعرہ لگاتے ہیں مگر فی الحال وہ یمن کے بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں.

..

Top