single photo

ٹیلی کام کے شعبے میں اربوں روپے کی بے ضابطگی کا انکشاف

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ٹیلی کام کے شعبے خصوصاً پاکستان ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی میں مالی بے ضابطگیوں اور ٹیلی کمیونیکیشنز آپریٹرز کی جانب سے غیرقانونی اجازت نامے دے کر قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے . آڈٹ رپورٹ میں اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ 14سال تک 11 فاصلاتی(long distance) آپریٹرز کی جانب سے نیٹ ورک رول آؤٹ کے ضابطوں پر عملدرآمد نہ کیا گیا لیکن اس کے باوجود پی ٹی اے کی مینجمنٹ نے کوئی قدم اٹھایا اور نہ ہی لائسنس کی شرائط کے مطابق لائسنس منسوخ کیا .

ضرور پڑھیں: عثمان بزدار کی ناقص اقتصادی پالیسیاں، اربوں روپے کے خسارے کا سامنا،ہر ماہ کتنے ارب کا نقصان ہورہاہے؟ تشویشناک انکشافات

آڈٹ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی اے نے ٹیلی کام آپریٹرز کو شوکاز نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود 16کیسز کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا جہاں ان پر لگائے جانے والے جرمانے کی رقم کی مالیت 27.35 ارب روپے بنتی ہے. اس کے علاوہ یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا کہ پی ٹی اے نے تھری جی اور فور جی/ایل ٹی ای سروس کے لیے اس کی طے شدہ فیس اور رقم وصول کیے بغیر غیرقانونی اجازت نامے جاری کیے جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا. پی ٹی اے نے قومی خزانے میں 6.69ارب روہے جمع نہیں کرائے جبکہ انتظامیہ کو 9.72ارب روپے کے اضافی اخراجات کی فہرست موصول ہوئی البتہ 2017 میں خزانے میں 3.02ارب روپے جمع کرائے گئے. آڈٹ میں جمع کرائے گئے اعتراضات کے مطابق سالانہ بقایہ جات کی مد میں 2.69ارب روپے کم موصول ہوئے جبکہ دیگر وصولیاں نہ ہونے سے بھی 3ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا. رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی کہ ٹیلی کام اداروں کو اپنا وصولی کا نظام بہتر اور متحرک بنانے کی ضرورت ہے اور وہ واجبات کی وصولی کو یقینی بنائیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ کی منظوری کے بغیر 4جی سروس کے غیرقانونی اجرا پر تحقیقات کی بھی تجویز پیش کی. پارلیمنٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 19-2018 کے آڈٹ میں اسپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن کی جانب سے 354ملین کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا جبکہ آڈٹ اعتراضات میں ادائیگیوں کی مد میں 173.20ملین روپے کی بے ضابطگیوں کا بھی انکشاف ہوا. اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان نے کہا کہ مال وصول کرنے والے افسر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات کا سرٹیفکیٹ فراہم کرے کہ مال اسی نے وصول کیا ہے اور مناسب اسٹاک رجسٹر میں اس کا ریکارڈ رکھے. اسپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن مینجمنٹ نے جون 2016 میں چین کی کمپنی zte کے ساتھ 'آزاد جموں و کشمیر' میں جی ایس ایم سم کی منتقلی' کے منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کی مالیت 1.62ارب روپے بنتی ہے. اکاؤنٹنٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق ایس سی او مینجمنٹ کی جانب سے دو انوائسوں کے ذریعے zte کو مکمل رقم ادا کی گئی البتہ درآمدی اشیا کی لیڈنگز کا بل اصل اشیا کی رسیدوں سے میل نہیں کھاتا اور کچھ کیسز میں کی گئی انٹریز کو کالی سیاہی سے مٹایا گیا.

..

ضرور پڑھیں: بجلی صارفین سے بقایا جات کی مد میں اربوں روپے بوجھ ڈالنے کی تیاریاں

Top