single photo

بریکنگ نیوز: عمران خان کے نئے پاکستان کی تعمیروتکمیل کے لیے جرمنی بھی میدان میں آگیا

لاہور(قدرت روزنامہ)جرمنی گڈ گورننس،کلین انرجی ،پائیدارمعیشت اور دیگر پروگزامز کیلئے پنجاب کو 10کروڑڈالر سے زائد کے فنڈزفراہم کریگا . معتبر ذرائع کے مطابق 11سے 12ستمبر تک جرمنی کے شہر برلن میں ہونیوالی گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کانفرنس میں حکومت پاکستان کے 6 رکنی وفدنے وفاقی سیکرٹری اکنامک افیئرز ڈویژن کی سربراہی میں شرکت کی .

ضرور پڑھیں: سعودی عرب سے بھی عمران خان کو انکار۔۔۔!!! محمد بِن سلمان وعدہ وفا نہ کر سکے، اچانک وزیر اعظم کو سرپرائز دے دیا

کانفرنس میں چیئر مین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ حبیب الرحمٰن گیلانی نے صوبائی حکومت کے مستقبل کے اہداف اور مختلف حوالوں سے پنجاب میں براہ راست سرمایہ کاری کے مثبت اثرات کی بابت بریفنگ دی. جس کے تناظر میں جرمن حکومت اور پنجاب حکومت اقتصادی تعاون بڑھانے پر متفق ہوگئیں جبکہ جرمن حکومت نے ابتدائی طور پر پنجاب حکومت کو ایک سے زائد شعبوں میں(107.1ملین امریکن ڈالر)/17ارب12کروڑ روپے سے زائد فنڈز فراہم کرنے کا معاہدہ کر لیا.جرمنی کے شہر برلن میں وفاقی سیکرٹری اکناک افیئرز ڈویژن نے معاہدہ پر حکومت پاکستان کی جانب سے دستخط کر دیئے . مذکورہ فنڈز 4 مختلف مدات میں خرچ کئے جائینگے جن میں سے صوبہ میں گڈ گورننس کے 5پروگرامز پر 7ارب20کروڑ روپے ، کلین انرجی کے 3 پروگرامز پر6ارب روپے ، سسٹین ایبل اکانومی کے 3 پروگرامز پر 3ارب60کروڑ روپے جبکہ مختلف حوالوں سے سٹڈیز کی مد میں 24کروڑ روپے خرچ کئے جائینگے . جی ٹو جی کانفرنس میں شرکت کرنیوالے پاکستانی وفد نے اپنی رپورٹ باضابطہ طور پر اعلیٰ حکام کو پیش کر دی ہے .ایک اور خبر کے مطابق ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ (جولائی اور اگست) میں 58.4 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے . رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والے ڈیٹا کے مطابق جولائی اور اگست کے درمیان کل ایف ڈی آئی کم ہوکر 15 کروڑ 67 لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ سال اسی دورانیے میں 37 کروڑ 69 لاکھ ڈالر تھی.اس کے علاوہ اگست کے مہینے میں ایف ڈی آئی میں 57.8 فیصد کمی آئی جو اگست 2018 میں 19 کروڑ 79 لاکھ ڈالر تھی تاہم اس مہینے میں صرف 8 کروڑ 34 لاکھ رہی.توانائی کے انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کے باوجود حکومت ملک میں سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہی ہے جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری کے پہلے مرحلے کے مکمل ہونے کی وجہ سے بھی ایف ڈی آئی کے بہاؤ میں کمی آئی ہے .اس کے علاوہ دو ماہ میں کل بیرونی سرمایہ کاری میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ سال 24 کروڑ 64 لاکھ ڈالر تھی تاہم اس سال 24 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہی.اسٹیٹ بینک کے ڈیٹا میں بتایا گیا کہ چین سے بہاؤ میں سست روی کی وجہ سے اعداد و شمار میں کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ بیجنگ سے جولائی اور اگست کے درمیان بہاؤ گزشتہ سال کے 21 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 2 کروڑ 89 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا.برطانیہ ملک میں سرمایہ کاری کرنے والا دوسرا بڑا ملک قرار پایا جس نے 1 کروڑ 17 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جبکہ متحدہ عرب امارات سے ملک میں 59 لاکھ ڈالر اور ملیشیا سے 54 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی.غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے آئل اینڈ گیس کی تلاش کا شعبہ توجہ کا مرکز رہا جس میں 2 ماہ کے دوران 2 کروڑ 13 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری دیکھی گئی جبکہ ٹرانسپورٹ میں 1 کروڑ 49 لاکھ ڈالر اور ٹیکسٹائل کے شعبے میں 1 کروڑ 53 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سامنے آئی.

..

ضرور پڑھیں: نواز شریف اگر واپس نہ آئے تو اس کی ذمہ داری عمران خان کی حکومت پر عائد ہو گی

Top