single photo

نیب کا ایک اور بڑا کھڑاک: پیپلز پارٹی کے اہم ترین سیاسی رہنما کو گرفتار کر لیا گیا

(قدرت روزنامہ) نیب نے رہنما پیپلز پارٹی میرعباس جکھرانی کو گرفتار کر لیا، پی پی رہنما کو بم پروف گاڑی کی خریداری پرتفتیش کیلیے گرفتار کیا گیا، انہوں نے سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت حاصل کر رکھی تھی جس کے ختم ہونے پر نیب نے جیکب آباد میں چھاپہ مار کر گرفتاری عمل میں لائی . تفصیلات کے مطابق نیب نے جیکب آباد میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور فریال تالپور کے قریبی ساتھی میرعباس جکھرانی کو گرفتار کر لیا ہے .

ضرور پڑھیں: لاڑکانہ کی صوبائی سیٹ پر ضمنی الیکشن : پیپلز پارٹی اپنے ہی گڑھ میں کیوں ہاری ؟ ایسی وجہ سامنے آ گئی کہ دہائیوں سے زندہ بھٹو کو بھی ہارٹ اٹیک ہو جائے گا

رہنما پیپلز پارٹی میرعباس جکھرانی کیخلاف بم پروف گاڑی کی غیر قانونی خریداری کا کیس کئی ماہ سے چل رہا تھا. میرعباس جکھرانی نے گرفتاری سے بچنے کیلئے سندھ ہائیکورٹ سے تین ماہ کی ضمانت حاصل کی تھی. اب ان کی تین ماہ کی ضمانت ختم ہونے پر نیب نے جیکب آباد میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور انہیں گرفتار کر لیا. نیب نے میرعباس جکھرانی کو گرفتار کرنے کے فوری بعد مزید تفتیش کیلئے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے. یہاں واضح رہے کہ میرعباس جکھرانی جیکب آباد میونسپل کمیٹی کے چئیرمین ہیں اور انہوں نے آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کو بم پروف گاڑی خرید کر تحفے میں دی تھی. دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سندھ اسمبلی اجلاس میں فریال تالپور کی تقریر پر اپوزیشن نے شور شرابہ کیا. وزیر ریونیو لاڑکانہ اور سکھر میں سرکاری زمینوں پر قبضہ مافیا کے نام بتانے میں ناکام رہے. فریال تالپور نے نام منظرعام پر لانے کا مطالبہ کر دیا. خورشید شاہ کی گرفتاری کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی. تفصیلات کے مطابق سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا.

محکمہ ریونیو کے سوالات جوابات جاری تھے تو فریال تالپور نے نکتہ اعتراض پر بات کرنا شروع کردی جس پر اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا اور ہنگامہ آرائی کی.ایوان میں محکمہ ریونیو کے صوبائی وزیر مخدوم محبوب الزمان اپوزیشن ارکان کے ضمنی سوالات کے جواب دینے میں ناکام ہوگئے. حکومتی رکن فریال تالپور نے بھی لاڑکانہ میں قبضے کرنے والوں کے نام بتانے کا مطالبہ کردیا.پیپلز پارٹی کی رکن ماروی فصیح شاہ نے سید خورشید شاہ کی گرفتاری کے خلاف مذمتی قرارداد ایوان میں پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا.ڈاکٹر نمرتا واقعہ پر جی ڈی اے رکن نند کمار نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا. صوبائی وزیر برائے پارلیمانی امور نے وضاحت کی کہ حکومت اس معاملے پر عدالتی تحقیقات کرانے کا حکم دے چکی ہے، جلد ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا.

..

ضرور پڑھیں: لاڑکانہ میں انتخابی شکست، پیپلز پارٹی میں پھُوٹ پڑ گئی

Top