single photo

چین اور ایران ایک دوسرے کے قریب آگئے ، ریکارڈ سرمایہ کاری کی خبر آتے ہی پوری دنیا میں ہلچل مچ گئی

تہران(قدرت روزنامہ) چین ایران میں 400 ارب ڈالرز (626 کھرب 76 ارب 14 کروڑ روپے سے زائد ) کی سرمایہ کاری کرے گا، تفصیلات کے مطابق توانائی سے متعلق معروف آن لائن جریدے ”پیٹرولیم اکانومسٹ“ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران ایران کے تیل، گیس، بجلی اور انفراسٹرکچر شعبوں میں 400ارب ڈالر کی مجوزہ چینی سرمایہ کاری کی پیش کش کو حتمی معاہدے کی شکل دے دی ہے . چین نے یہ پیشکش 2016میں کی تھی .

بتایا جاتا ہے کہ چین کی یہ سرمایہ کاری چین کے بیلٹ اینڈ روڈ حکمت عملی کا ایک حصہ ہو گی اور یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے 60 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے منصوبوں سے لگ بھگ سات گنا بڑی ہوگی.ایران میں چین کی اس خطیر سرمایہ کاری کے دو حصے ہوں گے. دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر سعودی عرب یا امریکا کی جانب سے حملہ کیا گیا تو اپنے دفاع میں ایک پل دیر نہیں لگائیں گے.غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ایران کسی بھی عسکری تنازع میں نہیں الجھنا چاہتاتاہم اگر امریکا یا سعودی عرب کی جانب سے کوئی بھی حملہ کیا گیا تو یہ جنگ کی دعوت ہوگی اور ہم اپنے دفاع میں ایک پل بھی دیر نہیں کریں گے.اس ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے سعودی آئل فیلڈ پر حملے کے ایران پر الزامات امریکی صدر کو ایک جنگ کی طرف مائل کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے، لیکن ہم اس معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہیں اور جنگ نہیں چاہتے، تاہم یہ بھی باور کرانا چاہتے ہیں کہ جنگ کی صورت میں سعودی عرب کوآخری ’امریکی فوجی‘ کے زندہ ہونے تک لڑنا پڑے گا.واضح رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی شہر بقیق میں بڑی ا?ئل فیلڈ اور آرامکو کمپنی کے پلانٹ پر ڈرون حملے ہوئے جس کے نتیجے میں بھاری مالی نقصان ہوا، امریکا اورسعودی عرب نے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا .

..

Top