single photo

مولانا فضل الرحمن ڈیل کرنے کو تیار ہو گئے

لاہور (قدرت روزنامہ)سینئیر صحافی و تجزیہ نگار عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے چکر میں آنے کی بجائے خود ڈیل کے چکر میں ہیں . انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ حکومت کے خلاف تحریک چلانے میں سنجیدہ نہیں .

ضرور پڑھیں: ’آئل فیلڈ حملے کے مجرمان کے خلاف ردِعمل کیلئے تیار، اہداف بھی لاک کرلیے‘

دونوں اپنے اپنے رابطوں کے ذریعے سے این آر او لینے کی کوشش کر رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ بظاہر پیپلز پارٹی کی طرف سے احتجاج یا تحریک میں شامل ہونے کے لیے دلچسپی دکھائی گئی ہے.مگر حقیقت میں پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمن تینوں ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں.انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو یہ ڈر ہے کہ ہم لوگ اکٹھے نہیں کر سکتے تو مولانا فضل الرحمن ہیرو کیوں بنیں. عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن جانتے ہیں کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں انہیں دغا دے رہے ہیں،جس کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے چکر میں آنے کی بجائے خود ڈیل کے چکر میں ہیں. عارف حمید بھٹی نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو چند فائلیں دکھائی گئی ہیں جس کے بعد ہوسکتا ہے کہ یہ دھرنا اکتوبر اب چالیس پچاس سال تک چلا جائے،

عارف حمید بھٹی نے کہا کہ ہیں تو وہہ کاغذ کے ٹکڑے لیکن وہ اربوں روپے مالیت کی جائیدادوں کے کاغذات ہیں.خیال رہے کہ پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں شرکت سے انکار کر چکی ہے.جب کہ ق پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے جمیعت علمائے اسلام ف کے حکومت مخالف دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے. خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت مذہب کا استعمال کرکے حکومت کو نشانہ بنانے سے گریز کرے گی. نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی جماعت سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے مذہب کا استعمال کرنے کے سخت مخالف ہے. ان کی رائے میں مذہب کا استعمال کر کے حکومت کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہیئے. ان کا خیال ہے کہ ان کی جماعت مسلم لیگ ن مذہب کا غلط استعمال کر کے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت نہیں کرے گی. مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی اگر حمایت بھی کی جائے گی تو وہ سیاسی مقاصد کی وجہ سے کی جائے گی. ماضی میں مسلم لیگ ن کی حکومت اور رہنما مذہب کے نام پر نفرت اور حملوں کا نشانہ بنے. احسن اقبال پر گولی چلائی گئی جبکہ مجھ پر سرعام سیاہی پھینکی گئی. ہمیں اندازہ ہے کہ مذہب کا سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کتنا خطرناک ہوتا ہے، اس لیے ہماری جانب سے ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے گا.

..

ضرور پڑھیں: ہمارے وزیراعظم اسلام آباد چھوڑنے کیلئے تیار نہیں،احسن اقبال

Top