single photo

حجاب کا فیصلہ واپس کیوں لیا؟وفاق المدارس عربیہ نے حکومت کے خلاف بڑے اقدام کا اعلان کردیا

کراچی (قدرت روزنامہ) پاکستان میں مدارس دینیہ کے سب سے بڑے بورڈ وفاق المدارس العربیہ کی جانب سے حجاب کے حوالہ سے کے پی کے حکومت کے فیصلہ کے خلاف جمعہ اجتماعات میں یوم مذمت کے طور پہ منایا گیا . وفاق المدارس کے میڈیا کوآرڈینیٹر مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق کراچی میں مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا امداداللہ یوسف زئی، مولانا ڈاکٹر عادل خان، مفتی محمد نعیم، مولانا اسفندیارخان، قاری محمد عثمان، مولانا اعجاز مصطفےٰ، قاضی احسان احمد، مولانا عبدالرزاق زاہد، مولانا محمد ابراھیم سکرگاھی، مولانا قاری حق نواز، مفتی اکرام الرحمن، مولانا عبید الرحمن چترالی، مولانا الطاف الرحمن، مولانا محمد احمد حافظ، مفتی محمد خالد، مولانا عمر عباسی، مفتی عبدالحمید ربانی، مفتی امداداللہ عبدالقیوم، مولانا عطاء اللہ عمر، مولانا فیض اللہ آزاد، مولانا منظور احمد مینگل، ولانا محمد یوسف کشمیری جبکہ حیدرآباد میں مولانا ڈاکٹر سیف الرحمن، شہداد پور میں مولانا قاری عبدالرشید، ھالا میں مولانا محمد خالد، میر پور خاص میں مفتی عبیداللہ انور، مولانا ہارون معاویہ، سانگھڑ میں مولانا محمد سلیم، سجاول میں مولانا محمد ابراھیم، سکھر میں مولانا قاری جمیل احمد بندھانی، لاڑکانہ میں مولانا مسعود احمد سومرو، مولانا ناصر محمود سومرو، نواب شاہ میں مفتی محمد اکمل، کنڈیارو میں مولانا محمد ادریس سومرو، عمر کوٹ میں مولانا محمد یعقوب سمیت سینکڑوں مساجد میں معاشرہ میں پردہ کی اہمیت اور ضرورت پہ اظہار خیال کرتے ہوئے کے پی کے حکومت کی جانب سے حجاب کے فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے دین و اسلام کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے فی الفور فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا .

ضرور پڑھیں: امریکی ماڈل نےبغیرپتلون کے حجاب پہن کر اسلام کامذاق بناڈالا،مسلمان آ گ بگولہ

میڈیا کوآرڈینیٹر کے مطابق ملتان میں ناظم اعلی وفاق المدارس مولانا محمد حنیف جالندھری نے جامعہ خیرالمدارس، مولانا محمد نواز نے جامعہ قادریہ، مرکزی ناظم دفتر مولانا عبدالمجید نے جامع مسجد گارڈن ٹاؤن، دارالعلوم کبیر والا میں مولانا ارشاد احمد، فیصل آباد جامعہ امدادیہ میں مفتی محمد طیب، جامعہ دارالقرآن میں مولانا قاری محمد یاسین، چنیوٹ میں مولانا سیف اللہ خالد، گوجرانوالہ میں مولانا قاری گلزار احمد قاسمی، مولانا جواد احمد قاسمی، ساہیوال میں مولانا کلیم اللہ رشیدی، رحیم یار خان میں مولانا عمرفاروق عباسی، مولانا عبدالرؤف ربانی، لاہور میں مولانا خرم یوسف، اٹک میں مولانا انس محمود، مولانا مسعود اختر ضیاء ، مولانا عبدالصمد، مولانا ہارون الرشید، مولاناقاری سعیدالرحمن، راولپنڈی میں ناظم صوبہ پنجاب مولانا قاضی عبدالرشید، میڈیا انچارج مولانا عبدالقدوس محمدی، مفتی عبدالرحمن، مولانا عبدالرؤف محمدی، مولانا زاہد منصور، مولانا قاسم علی شاہ، اسلام آباد میں مولانا عبدالغفار، مولانا ظہوراحمد علوی، مولانا محمد نذیر فاروقی، مفتی عبدالسلام سمیت سینکڑوں علماء نے ہزاروں افراد کے جمعہ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کے پی کے حکومت کے حجاب فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے دین کے خلاف سازش قراردیا گیا،

جبکہ خیبر پختون خواہ میں جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ میں وفاق المدارس کے مرکزی نائب صدر مولاناانوار الحق حقانی، جامعہ عثمانیہ پشاور میں صوبائی ناظم وفاق مولانا حسین احمد، میڈیا انچارج کے پی کے مولانا سراج الحسن، دارالعلوم سرحد میں مولانا جواد احمد بنوری، دارالعلوم شیرگڑھ میں مولانا محمد قاسم، لکی مروت میں مفتی اصلاح الدین حقانی، مانسہرہ مفتی کفایت اللہ، ایبٹ آباد میں مولانا حبیب الرحمن، ہری پور مولانا فیوض الرحمن، سوات میں مولانا قاری محب اللہ، مولانا محمد فہیم، چترال میں مولانا شفیق احمد، گلگت میں مولانا قاضی نثار احمد، مولانا حبیب اللہ، مردان میں مولانامطہر شاہ، مولانا حماداللہ یوسف زئی، جبکہ آزاد کشمیر مولانا سعید یوسف، مولانا قاضی محمودالحسن اشرف، مولانا عبدالصبور مدنی سمیت کئی مساجد میں آئمہ و علماء نے جمعہ کے اجتماعات میں کے پی کے حکومت کے فیصلہ کے خلاف قرارداد پیش کرتے ہوئے فوری طور پہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا اور جن حکومتی افراد نے نوٹیفکیشن واپس لیا ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا. وفاق المدارس کے میڈیا کوآرڈینٹر کے مطابق ملک بھر کی طرح کوئٹہ میں مفتی مطیع اللہ، لورالائی میں مولانا عبداللہ جان، چمن میں صوبائی ناظم وفاق مولانا صلاح الدین، خضدار میں مولانا قاری عبداللہ، مستونگ میں مولانا مولا بخش، پشین میں مولانا عطاء اللہ، مولانا عبدالقہار سمیت کئی مساجد میں جمعہ اجتماعات میں کے پی کے حکومت سے حجاب کے حوالہ سے فیصلہ فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت سے دین و اسلام مخالف اقدامات سے گریز کا بھی مطالبہ کیا.

..

ضرور پڑھیں: امریکی ملکہ حسن کو حجاب کے خلاف ٹوئٹ مہنگا پڑ گیا

Top