single photo

جب بھی اس ملک کے کچھ ” اصل طاقتوروں “ کو اپنی عزت آبرو داﺅپر لگتی ہوئی محسوس ہوتی ہے تو وہ پولیس کے مظالم کی بحث چھڑوا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ توفیق بٹ کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (قدرت روزنامہ) میں نے وزیراعظم عمران خان کو بھی اُن کے واٹس ایپ پر یہی مسیج کیا تھا ”ایسے کام نہیں چلے گا، پنجاب میں پولیس مورال مکمل طورپر سپردخاک ہوگیا ہے . ایسے میں اُن کے انتہائی نیک نام کمانڈر آئی جی پنجاب پولیس کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان کو بے قصور ہونے کے نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں .

.....باوجود تبدیل کردیا گیا اس سے پوری پنجاب پولیس میں بددلی پھیلے گی جس کے نقصانات کا ازالہ شاید کبھی نہ ہوسکے “….آئی جی پنجاب کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں، اُنہوں نے ہمیشہ بڑی محنت اور محبت سے اپنی فورس کے دل جیتے، اور اُنہیں قائل کیا پولیس کا بنیادی کام صرف اور صرف قانون کے مطابق عوام اور مظلوموں کی مدد اور خدمت کرنا ہے، اِس میں ڈنڈی مارنے والے پولیس افسران واہل کار دنیاو آخرت دونوں میں رسوا ہوں گے “ ….اپنی فورس کی بہتری اور بھلائی کے لیے اُنہوں نے غیرمعمولی اقدامات کیے، حکومت کو قائل کیا ” جب تک نچلی سطح پر پولیس ملازمین کی تنخواہوں اور سہولیات میں اضافہ یا بہتری نہیں ہوگی، تب تک پولیس میں اصلاحات کا کوئی ایجنڈہ کامیاب نہیں ہوگا“….اپنی فورس کی بہتری اور بھلائی کے لیے کس کس سے کہاں کہاں لڑائی انہوں نے نہیں لڑی؟ یہ میں ذاتی طورپر جانتا ہوں، یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، کچھ ڈی ایم جی افسران مسلسل اس سازش میں مصروف ہیں پولیس کو دوبارہ اپنی ماتحتی میں لیا جائے، سنا ہے وزیراعظم کو اپنی اِس ناپاک خواہش سے اُنہوں نے آگاہ کیا اور اُن سے اس کی منظوری بھی لے لی ہے، ہماری سیاسی حکومتوں کو ذلیل و رسوا کروانے میں کچھ ڈی ایم جی افسران کا بڑا اہم کردار ہے، ان میں سازشیوں کا ایک ٹولہ ہے، ہم اُنہیں ” انتظامی لوٹے“ بھی کہہ سکتے ہیں، جو حکومت آتی ہے یہ سازشی ٹولہ بذریعہ گھٹیا خوشامد اُس کے قریب ہوجاتا ہے، اور پھر اُس حکومت سے اپنے مفاد اور مرضی کے فیصلے کرواتا ہے، جس کے نتائج بعد میں سیاسی حکمرانوں کو بھگتنا پڑتے ہیں، شریف برادران کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا، فرض کرلیں اُنہیں اگر سزا اِس ملک کی اصل قوتوں کے سامنے سر اُٹھانے کی نہیں مِل رہی، اُنہیں اگر واقعی کرپشن کی سزا مل رہی ہے تو اربوں کھربوں کی کرپشن ظاہر ہے انہوں نے اکیلے تو نہیں کی ہوگی؟ اللہ جانے کتنے ڈی ایم جی افسران اس ضمن میں اُن کے ”آلہ کار“ بنے ہوں گے ؟ اُن میں سے گرفتار کتنے ہوئے ؟ سوائے احد چیمہ اور فواد حسن فواد کے…. وہ بھی بچ جاتے اگر شریف برادران کے ذاتی وفادار نہ بنے ہوتے، اُنہیں سزا اتنی کرپشن کی شاید نہیں مل رہی جتنی شریف برادران کے ذاتی وفادار بننے کی مل رہی ہے .گزارش اتنی ہے ہمارے کچھ افسران سیاسی حکمرانوں کو خود کرپشن کے راستے بتاتے ہیں، تاکہ اس کی آڑ میں کرپشن کے حوالے سے وہ اپنے اُلو بھی سیدھے کرتے رہیں. اس ملک میں بڑی کرپشن کی سزا کسی کو ملی ہے نہ ملے گی.

البتہ سزا دینے کے لیے خصوصاً سیاسی حکمرانوں کو دیگر معاملات یا اُن کے دیگر جرموں کی سزادینے کے لیے حوالہ زیادہ تر اُن کی ”کرپشن“ کو ہی بنایا جاتا ہے، سیاسی حکمران اگر فیصلہ کرلیں اس ملک کی اصل قوتوں کے سامنے ہمیشہ سر جھکا کر بات کریں گے پھر جتنی چاہیں وہ کرپشن کرلیں کوئی اُنہیں روکنے یا پوچھنے والا نہیں ہوگا. زرداری نے تو باقاعدہ پلاننگ کے تحت اپنے دور کے ایک اصل طاقتور کو کرپشن کی کھلی چھٹی دیئے رکھی، دیئے رکھی کہ اس رعایت کی آڑ میں اس نے خود بھی کرپشن کرنے کی کھلی چھٹی لے رکھی تھی. اس دوطرفہ ”رعایت “ کے نتیجے میں ہی زرداری حکومت کو آئینی مدت پوری کرنے دی گئی، ایک بار زرداری ایک نجی محفل میں بتارہے تھے ان کے دور کے آرمی چیف جنرل کیانی جب بھی ایوان صدر میں ان سے ملنے آتے یا باہر کہیں ان سے ملاقات ہوتی وہ سب سے پہلا سوال ان سے یہی کرتے تھے ” اور سنائیں جنرل صاحب بھائیوں کا کاروبار خیر سے ٹھیک چل رہا ہے ؟“….خیر میں یہ عرض کررہا تھا آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان نے اپنی فورس کی ہرممکن بہتری و بھلائی کے لیے کہاں کہاں لڑائی نہیں لڑی؟. ابھی پچھلے دنوں پولیس ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کے معاملے میں کچھ ڈی ایم جی افسران نے پھر ٹانگ اڑانے کی کوشش کی، آئی جی پنجاب نے یہ مقدمہ کچھ اس انداز میں لڑا ڈی ایم جی افسران کو مجبوراً ہتھیار بلکہ ”ناکارہ ہتھیار“ پھینکنا پڑ گئے. میں حیران ہوں اپنا کام ہمارے کچھ ڈی ایم جی افسران سے سنبھالا نہیں جاتا، دوسروں کے چھابوں میں ہاتھ مارکر اُن کا کام بھی خراب کرنا چاہتے ہیں، مرکز اور صوبوں میں کون سا سول محکمہ ایسا ہے جس کی کارکردگی قابلِ رشک ہو؟ بے شمار سول محکموں کی کارکردگی محکمہ پولیس سے ہزار گنا بری ہے، مگر میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا ہماری پولیس چونکہ ”سوفٹ ٹارگٹ“ ہے، تو اس محکمے کو چند کالی بھیڑوں یا بھیڑیوں کی غلطیوں سے پورے محکمے کو ذلیل و رُسوا کرکے رکھ دیا جاتا ہے، ایسی سازشوں کے پیچھے بھی عموماً کچھ ڈی ایم جی افسران کا ہی ہاتھ ہوتا ہے جو یہ ناپاک خواہش دل میں پال کے بیٹھے ہوئے ہیں کہ پولیس کو ایک بار پھر ان کے ”سپردخاک“ کر دیا جائے …. انہیں خدشہ ہے آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان اس ضمن میں ان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بنیں گے ، چنانچہ بری پلاننگ کے تحت اُن کے خلاف میڈیا وسوشل میڈیا مہم چلائی جارہی ہے، حتیٰ کہ انہیں ہٹوانے کی ناکام کوششیں بھی جاری ہیں، یہ تفصیل عرض کرنے کا مقصد یہ ہے ہونا تو یہ چاہیے پولیس افسران و ملازمین اپنے آئی جی کی اس محنت اور محبت کے بدلے میں ان کے لیے عزت مندی کا باعث بنے، عوام کے ساتھ اپنا رویہ بہتر کریں، خصوصاًمظلوموں کو اُن کا جائز حق دلوانے کے لیے اس خوف اور ”لالچ“ کے تحت جدوجہد کریں اس سے ایک تو اُن کا رب اُن سے راضی ہوگا، دوسرے اُن کا وہ کمانڈر بھی اُن سے خوش ہوگا جس کا ایک ایک پل اُن کی بہتری اور بھلائی کے لیے سوچتے ہوئے گزر جاتا ہے. پر افسوس اس کے برعکس ہویہ رہا ہے کچھ پولیس افسران کی غفلت سے ان کی ماتحت کالی بھیڑیں اپنی فطرت کے مطابق کچھ ایسے سانحات کا باعث بن جاتی ہیں جن کا خمیازہ نہ صرف آئی جی بلکہ پورے محکمے پوری حکومت کو بھگتنا پڑتا ہے. اُوپر سے ہمارے عوام کچھ واقعات کی اصلیت جانے بغیر اُن پر ایسا طوفان بدتمیزی برپا کردیتے ہیں پورا محکمہ اس کی زد میں آجاتا ہے. عوام یہ کہتے ہیں ہماری پولیس بڑی گندی ہے، میں کئی ایسے واقعات کا گواہ ہوں جن میں عوام، پولیس سے زیادہ گندے ثابت ہوئے ہیں، سو مجھے معاف کیا جائے میں عرض کروں جس قسم کے ہمارے عوام ہیں میں کبھی کبھی سوچتا ہوں ان کے لیے ایسی ہی پولیس چاہیے جیسی ہے. ایک اور بات میرے مشاہدے میں آئی ہے جب بھی اس ملک کے کچھ ” اصل طاقتوروں “ کو اپنی عزت آبرو داﺅپر لگتی ہوئی محسوس ہوتی ہے تو میڈیا وسوشل میڈیا پر اچانک پولیس مظالم کی ویڈیو منظر عام پر آنے لگتی ہیں !! (ش س م)

..

Top