single photo

بھارتی حکمران حالات وہاں نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو، آج دو قومی نظریے کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی: صدر مملکت کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)صدر مملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ 50 سال بعد کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں زیر بحث آنا پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے، آج بھارت کے سیکولرازم اور جمہوریت آر ایس ایس کے نظریے کی نذر ہورہے ہیں ، خدشہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کی جائے گی، پاکستان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا تھا، ہے اور کھڑا رہے گا، بھارتی حکمران حالات کو اس نہج پر نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو، بھارت میں رونما ہونے والے واقعات نے دوقومی نظریے کی اہمیت کو مزید اجاگر کردیا ہے . پہلا پارلیمانی سال مکمل ہونے پر صدر مملکت عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے فی البدیہہ خطاب کیا .

ضرور پڑھیں: پارلیمان کی عزت نہ تو کوئی ادارہ بڑھا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی کم کر سکتا ہے، اپوزیشن چاہتی ہے کہ کرپشن کی بحث کو ختم کریں اور آگے بڑھیں لیکن کرپشن کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچائے بغیر ختم نہیں ہو سکتا

اس دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے بھرپور احتجاج کیا گیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے گئے. صدر مملکت عارف علوی نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کو اٹھایا گیا بھارت کا غیر قانونی اقدام اقوام متحدہ کی قرار دادوں ، بین الاقوامی قوانین اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے. 7 اگست کو پاکستانی پارلیمان نے بھارتی حکومت کے یکطرفہ اقدام کی مذمت کی.یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر غور لایا گیا، جس پر ہم دوست ممالک اور چین کے خصوصی طور پر شکر گزار ہیں. انہوں نے کہا کہ آج بھارت کے سیکولرازم اور جمہوریت آر ایس ایس کی نذر ہورہے ہیں، بھارت کو فاشسٹ نظریے کے حامل لوگوں نے یرغمال بنالیا ہے اور 90 لاکھ کشمیریوں کی زندگیوں کو خدشات لاحق ہوچکے ہیں. اقوام متحدہ اپنے مبصرین مقبوضہ کشمیر بھجوا کر حالات کا جائزہ لے ، آج اگر دنیا نے بھارت کی کشمیر میں ممکنہ نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا. صدر مملکت نے واضح کیا کہ مظلوم کشمیریوں کی ممکنہ نسل کشی قطعی طور پر برداشت نہیں کی جائے گی ، عالمی برادری پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی چشم پوشی عالمی امن کیلئے خطرناک ہوگی، پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور حق خود ارادیت کے حصول تک ان کے ساتھ کھڑی رہے گی، ہم ان کے ساتھ تھے، ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے. انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ایل او سی پر غیر مسلح شہری آبادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جارہی ہے. بھارتی حکمران حالات کو اس نہج پر نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو، پاکستان نے بھارتی جنگی جنون کا جواب ہمیشہ صبر سے دیا اور بارہا کہا کہ ہماری امن کی کوشش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے. صدر مملکت کا کہنا تھا کہ بھارت ہمیشہ پاکستان میں تخریبی کاررائیوں میں ملوث رہا ہے اور وطن عزیز میں دہشتگردی کی سرپرستی کرتا رہا ہے، اس کی ایک مثال کمانڈر کلبھوشن یادیو کی صورت میں سامنے آئی. اس نے اعتراف کیا کہ اس کی پاکستان آمد کا مقصد پاکستان میں بے امنی پھیلانا تھا.دنیا کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ بھارت پر آج ہندو انتہا پسندانہ سوچ نے غلبہ کرلیا ہے، مہاتما گاندھی اور نہرو کا ہندوستان آج تیزی کے ساتھ اپنی ہیئت بدل رہا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت میں رونما ہونے والے واقعات نے دوقومی نظریے کی اہمیت کو مزید اجاگر کردیا ہے. حکومتی کارکردگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ ایک سال کی قلیل مدت میں کابینہ کے 50 سے زائد اجلاس ہوئے جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت مسائل کے حل کیلئے فعال ہے. وزیر اعظم ذاتی دلچسپی لے کر ہر وزارت کی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہیں. وزیر اعظم نے سٹیزن پورٹل کے ذریعے شکایات کا ازالہ کیا جس کو مزید فعال بنایا جانا چاہیے.پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے، جمہوری اداروں کے استحکام اور وفاقی اکائیوں کی مضبوطی سے ہی جمہوریت فروغ پاسکتی ہے.

..

Top