single photo

سعودی عرب نے دوسری بار عمرے پر عائد اضافی فیس ختم کردی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سعودی حکام نے ملک میں داخل ہونے، نقل و حمل اور حج پالیسی کو دوبارہ مرتب کرنے کے حوالے سے شاہی فرمان جاری کردیا جس کے تحت دوسری بار عمرے کی صورت میں عائد کی گئی اضافی فیس واپس لے لی گئی ہے . عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت نے حج و عمرہ پالیسی میں متعدد تبدیلیاں کی ہیں اور اس حوالے سے باقاعدہ حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے .

سعودی عرب کے وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر محمد صالح بنتن نے فرماں روا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے شاہی فرمان جاری کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا. وزیر کا کہنا تھا کہ 'شاہی فرمان کے بعد وژن 2030 کے اصلاحاتی منصوبے کے اہم مقاصد پر اٹھائی گئی شکایات میں سے ایک اہم شکایت ختم ہوجائے گی اور ایک سال میں 3 کروڑ عمراہ زائرین کو خوش آمدید کہیں گے'. شاہی فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'عمرہ زائرین کو سکون اور آرام کے ساتھ اپنے مذہبی عمل کی ادائیگی کے لیے بہتر خدمات فراہم کی جاسکیں گی'. ڈاکٹر محمد صالح بنتن کا کہنا تھا کہ ‘شاہی فرمان قیادت کی اس توجہ کا حصہ ہے جس کے تحت دنیا بھر سے حج و عمرہ کی ادائیگی کے لیے پہنچنے والے مسلمانوں کو سہولیات دینا ہے’. ان کا کہنا تھا کہ 'فیصلے سے واضح ہوگیا کہ مملکت زائرین کی اضافی تعداد کو وصول کرنے کے لیے تیار ہے اس کے علاوہ مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہروں اور دیگر مقامات میں خدمات کی بہتری اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو اپنایا گیا ہے'. یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ برس سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے سالانہ عمرہ کرنے والے پاکستانیوں پر سعودی حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے 2 ہزار ریال ٹیکس واپس لینے کی درخواست کی تھی. سیکریٹری مذہبی امور محمد مشتاق نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کے اس قدم کا مقصد صرف چند افراد کو بار بار عمرہ کرنے سے روکنا ہے اور ٹیکس کا نفاذ صرف پاکستانیوں پر نہیں ہوا بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک سے آنے والے افراد پر نافذ کردیا گیا ہے. محمد مشتاق کا کہنا تھا کہ ‘2 سال کے دوران ایک سے زائد عمرہ ادا کرنے والے افراد پر عائد 2 ہزار ریال ٹیکس، مصر اور ترکی کے شہریوں سے ان کی حکومتوں کی سعودی عرب سے درخواست پر ختم کردیا گیا ہے’. سیکریٹری مذہبی امور نے کہا تھا کہ ‘وزیراعظم نے سعودی عرب کے دورے میں سعودی ولی عہد سے اس معاملے پر بات کی اور وہ ٹیکس کے خاتمے پر متفق ہوچکے ہیں کیونکہ یہ ایک وقتی معاملہ تھا’.

..

Top