single photo

برطانوی حکومت ہمارے ساتھ کیا زیادتی کر رہی ہے ۔۔۔؟ ایران کی قید میں موجود خاتون کے منگیتر نے بڑا الزام عائد کر دیا

لندن(قدرت روزنامہ) ایران میں قید خاتون کے منگیتر جیمز ٹائسن نے کہا ہے کہ عصر امیری دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان پھنس گئیں،برطانیہ اور ایران اس مسئلے پر بات کے لیے آمادہ نہیں . تفصیلات کے مطابق ایران میں جاسوسی کے الزام میں قید برطانوی خاتون کے منگیتر نے الزام لگایا ہے کہ برطانوی حکومت نے عصر امیری کے ایرانی شہری ہونے پر ان کی باحفاظت رہائی کے لیے اپنی ذمہ داری نبھانے سے آنکھیں پھیر لیں .

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ عصر امیری کے منگیتر جیمز ٹائسن نے انکشاف کیا کہ برطانوی حکام نے مذکورہ مسئلے پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عصر امیری ایرانی شہری تھیں، اس لیے وہ ان کی رہائی کے لیے مدد نہیں کرسکتے.انہوں نے کہا کہ عصر امیری کی عدم رہائی ایران کے مایوس کن رویے کی عکاس ہے لیکن ساتھ ہی برطانیہ کی سفارتی ناکامی بھی ہے.ایران میں سزا کاٹنے والی خاتون کے منگیتر نے الزام لگایا کہ ایرانی حکومت نے سفارتی فوائد کے لیے انہیں گرفتار کیا اور ’دشمنوں کو گولی مارنے کے بجائے اپنے ہی پاؤں پر گولی چلا دی.جیمز ٹائسن نے کہا کہ عصر امیری دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان پھنس گئی ہیں اور اب برطانیہ اور ایران اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے آمادہ نہیں . دی گارجین میں شائع رپورٹ کے مطابق عصر امیری کے منگیتر جیمز ٹائسن نے انکشاف کیا کہ برطانوی حکام نے مذکورہ مسئلے پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عصر امیری ایرانی شہری تھیں، اس لیے وہ ان کی رہائی کے لیے مدد نہیں کرسکتے. واضح رہے کہ جیمز ٹائسن بھی برٹش کونسل میں ملازمت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایرانی حکام جانتے ہیں کہ عصر امیری پر الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں. انہوں نے بتایا کہ ایران نے برطانیہ میں ایرانی فن پاروں کی نمائش کے انعقاد میں عصر امیری کی مدد کی تھی اور اب یہی دونوں حکومتیں انہیں شطرنج کا ایک مہرا سمجھتی ہیں.ان کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ عصر امیری کا مسئلہ اٹھانے سے قاصر ہے جبکہ وہ برطانوی شہری کے ساتھ ساتھ برٹش کونسل کی ملازمہ بھی ہیں.انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’عصر امیری کی حفاظت برطانوی حکومت کی ذمہ داری اور ڈیوٹی ہے، اس معاملے پر جب میں نے دفاتر خارجہ میں متعلقہ حکام سے ملاقات کی کوشش کی تو مجھے کہا گیا کہ یہ عصر امیری کے اہلخانہ کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ خود صورتحال سنبھالیں‘.جیمز ٹائسن نے سوال اٹھایا کہ اگر برطانوی سفارتکار کسی ملک میں گرفتار کرلیا جائے اور تو کیا اس زیر حراست سفارتکار کی والدہ کو کہا جائے گا کہ آپ خود ہی مسئلہ حل کریں‘.واضح رہے کہ رواں برس مئی میں ایران کی عدالت نے برٹش کونسل کی ملازمہ کو برطانیہ کے لیے ‘جاسوسی’ کے الزام میں 10 برس کی قید کی سزا سنائی تھی.ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن میں جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایرانی خاتون کو جاسوسی کے جرم میں سزا دی گئی.میزان آن لائن نے عدالت کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ایک ایرانی خاتون برٹش کونسل میں ایرانی ڈیسک کی انچارج کے طور پر کام کر رہی تھیں اور وہ برطانوی خفیہ ایجنسیوں سے تعاون کر رہی تھیں’.ادھر برطانوی دفتر خارجہ و دولت مشترکہ دفتر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں ان رپورٹس پر شدید تشویش ہے کہ برٹش کونسل کی ایرانی ملازمہ کو جاسوسی کے الزام میں قید کی سزا دی گئی.

..

Top