single photo

کیا ان کرتوتوں کے ساتھ منظور پشتین ، علی وزیر اور محسن داوڑ کسی رعایت کے مستحق ہیں ؟ شرپسند عناصر کی یہ چارج شیٹ ملاحظہ کیجیے اور اپنی رائے بھی دیجیے

لاہور (قدرت روزنامہ) ابھی حال ہی میں شہزاد ٹائون اسلام آباد کی حدود میں مہمند قبیلے کی ایک 10سالہ بچی فرشتہ کے ساتھ اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کا واقعہ پیش آیا . یہ واقعہ بہت بڑا تھا .

ضرور پڑھیں: لعنت ہے مجھ پر کہ میں نے پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا!! حکومتی وزرا کے کرتوتوں پر حسن نثار پھٹ پڑے

جسے میڈیا نے اٹھایا اور میڈیا کے ذریعے اربابِ اقتدار و اختیار تک بھی پہنچا. نامور کالم نگار اسرار بخاری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ........اس افسوس ناک واقعہ کا نوٹس صرف مقامی انتظامیہ ہی نے نہیں لیا بلکہ وزیراعظم کو بھی اس کا نوٹس لینا پڑا. انہوں نے واقعہ میں ملوث ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی بات کی.

ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور کوتاہی پر ایس ایچ او تھانہ ’’شہزاد ٹائون‘‘ اور متعلقہ ڈی ایس پی کو معطل کر دیا گیا جبکہ ایس پی کو او ایس ڈی بنا دیا گیا. کئی سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما اور کئی حکومتی وزیر اظہارافسو س اور متاثرہ خاندان سے اظہارِ ہمدردی کیلئے مقتولہ بچی کے گھر پہنچے فوج کی طرف سے بھی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ایک مذمتی بیان جاری کیا جس میں ناصرف مظلوم خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا بلکہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر مظلوم خاندان کو انصاف دینے کی بات کی گئی. چونکہ مقتولہ بچی فرشتہ کا تعلق پٹھان کمیونٹی سے تھا اس لیے پی ٹی ایم یعنی پختون تحفظ موومنٹ کے متعدد رہنما بیان بازی کر نے لگے.

اُنکے بیانات کا ہدف پاک فوج تھی حالانکہ اس واقعہ سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں تھا. یہ معمول کا ایک اندوہناک واقعہ تھا لیکن پی ٹی ایم والوں نے ایک خاص مقصد کے تحت فوج کو بھی اس سارے معاملے میں گھسیٹنے کی کوشش کی جبکہ فوج کے ترجمان ناصرف اس افسوس ناک واقعہ کی پُرزور الفاظ میں مذمت کر چکے تھے بلکہ مظلوم خاندان کو اپنے تعاون کا یقین بھی دلا چکے تھے.

..

Top