single photo

کیا گھر میں بچے کی پیدائش کا عمل ہسپتال جتنا محفوظ ہے؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)آج کل حاملہ خواتین کو یہ جملہ کتنی مرتبہ سننے کو ملتا ہے کہ پہلے کی خواتین ہسپتالوں کے چکر لگانے کے بجائے گھروں میں رہا کرتی تھی اور ان کے بچے کی پیدائش باآسانی گھروں میں ہی ہوجاتی تھی . یہی وجہ ہے کہ کئی خواتین اب اس حوالے سے یہ سوچنے پر مجبور ہورہی ہیں کہ کیا ہسپتال کے بجائے گھر میں بچے کی پیدائش محفوظ عمل ہوگا یا نہیں .

ضرور پڑھیں: جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ اور بچے لندن اثاثوں کے مالک ہیں، کبھی انکار نہیں کیا ،وکیل

اور اب امریکا میں اس حوالے سے ایک تحقیق بھی سامنے آگئی.

ایسی تمام ماؤں جو گھروں میں بچوں کی پیدائش کی خواہش رکھتی ہیں اور اس بارے میں جاننا چاہتی ہیں کہ یہ محفوظ ہے یا نہیں، کے لیے کی گئی تحقیق کے مطابق ایسی خواتین جن کے حمل میں خطرات پہلے سے ہی کم ہوتے ہیں انہیں ہسپتال میں بچوں کو جنم دینے والی خواتین کے مقابلے میں پیدائش کے وقت بچے کی اموات یا نوزائیدہ بچوں کی اموات کے اضافی خطرات لاحق نہیں ہوتے. رپورٹ میں بتایا گیا کہ ترقی یافتہ ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین اب ہسپتالوں کے بجائے گھروں میں بچے پیدا کرنے کو فوقیت دیتی نظر آتی ہیں،

تاہم ان کے تحفظ کے حوالے سے خدشات بھی سامنے آرہے ہیں. تحقیق میں بتایا گیا کہ بچے کی پیدائش چاہے گھر میں ہو یا ہسپتال میں، رسک دونوں صورتحال میں ایک جیسا ہی ہوتا ہے. تحقیق میں زچگی کے وقت یا ابتدائی 4 ہفتوں کے دوران بچوں کی اموات کے خطرے کے حوالے سے زچگی کی جگہ کے محفوظ ہونے کا جائزہ لیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ گھر اور ہسپتالوں میں زچگی کو لاحق خطروں میں طبی لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں ہے.

محققین نے اس تحقیق کو مکمل کرنے کے لیے 1990 کے بعد سے اس موضوع پر سامنے آنے والی 21 ریسرچز کا ڈیٹا استعمال کیا، جس میں گھر اور ہسپتال میں بچے پیدا کرنے کے خطرات اور فرق پر بات کی گئی. ان ریسرچز میں سوڈان، نیوزی لینڈ، برطانیہ، جاپان، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکا کی خواتین کا ڈیٹا شامل کیا گیا. اس تحقیق میں والدین کو بچے پیدا کرنے کے حوالے سے پہلے سے خاندانی منصوبہ بندی کرنے کا مشورہ دیا گیا. یہ تحقیق طبی جریدے دی لینسٹ ای کلینکل میڈیسن (The Lancet’s EClinicalMedicine) میں شائع ہوئی.

..

ضرور پڑھیں: ہمارے بچے کہتے ہیں ’’بھول نہ جانا پھر پپا، استعفیٰ لے کر گھر آنا‘‘: مفتی کفایت اللہ

Top