single photo

ایران کے بارے میں برطانوی حکومت نےانتباہی پیغام جاری کر دیا

لندن (قدرت روزنامہ)برطانیہ کے وزیر برائے امور خارجہ جیرمی ہنٹ نیایک بارپھر ایران سے تحویل میں لیا برطانوی بحری جہاز چھوڑنے اورعملے کو رہا کرنے کامطالبہ کیا ہے اورمتنبہ کیا ہے کہ اگر ایران نے تیل بردارجہاز نہ چھوڑا تو برطانیہ خلیج میں بڑی تعداد میں فوج تعینات کرنے پرمجبور ہوجائے گا . غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کے ساتھ تیل ٹینکر کے تنازع کیحوالے سے برطانوی کابینہ کا ہنگامی اجلاس منعقد کیاگیا .

ضرور پڑھیں: حکومت کا افغانستان اور ایران کی سرحدوں پر بارڈر مارکیٹس قائم کرنے کا فیصلہ

اجلاس میں ایران کی جانب سے تحویل میں لیے گئے برطانوی آئل ٹینکر کی بازیابی کے لیے مختلف آپشنز پرغٍور کیا گیا.اجلاس کے معد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ جیرمی ہنٹ کا کہنا تھا کہ ہم ایک بار پھر ایران پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہمارا تیل بردار بحری جہاز اور اس کا عملہ چھوڑ دے ورنہ اسے خلیج میں برطانیہ کی بھاری فوجی کمک کا سامناکرنا پڑے گا.قبل ازیں پارلیمنٹ کی کور کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں جیرمی ہنٹ نے کہا تھا کہ ہمارا جنگی بحری جہاز ایک ہفتے کے اندر خلیجی پانیوں میں پہنچ گیا ہے. ان کا کہنا تھا کہ ہما مشن آبی ٹریفک کی روانی کو تحفظ فراہم کرنا ہے کسی ملک پر چڑہائی نہیں.

انہوںنے مزید کہا کہ ہماری پالیسی میں سفارت کاری کو اولین حیثیت حاصل ہے. ہم عالمی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوششیںکررہے ہیں. ہنٹ نے ایران کیساتھ کسی قسم کی فوجی محاذ آرائی کے امکان کو رد کردیا.برطانوی وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں آبی ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی فورس تشکیل دینے کی کوشش کررہا ہے.ہنٹ کاکہنا تھا کہ ایران کا روکا گیا تیل بردار جہاز شام کے صدر بشارالاسد کے لیے بھیجا جا رہا تھا.قبل ازیں برطانوی وزیراعظم تھیریسا مے کے ترجمان نے ایران پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے ’غیر قانونی‘ طور پر قبضے میں لیے گئے برطانیہ کے تیل بردار بحری جہاز کو چھوڑ دے.وزیراعظم تھریسا مے کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم ہائوس کے ترجمان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں تیل بردار بحری جہاز ایران کی تحویل میں لیے جانے کے بعد تہران کے خلاف ممکنہ جوابی آپشن پرغور کیا گیا.

..

ضرور پڑھیں: ایران نے امریکہ کے حوالے سے دنگ کر ڈالنے والا اعلان کر دیا

Top