single photo

گھوڑ تھک چکا ہے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)فتوح الشام میں ایک صحابی حضرت ضرار بن ارزدا کے بڑے عجیب و غریب واقعات ہیں ان کے بارے میں کتاب میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ انہیں مسلسل آٹھ گھنٹے جہاد کرنا پڑا بالآخر کفار کے گھیرے میں آگئے‘ مسلسل آٹھ گھنٹے جہاد کرنے کی وجہ سے ان کا گھوڑا بھی تھک چکا تھا‘ وہ گھوڑے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے تھے مگر وہ آگے نہیں جاتا تھا‘ جب انہوں نے محسوس کیا کہ میرا گھوڑ تھک چکا ہے تو انہوں نے سوچا کہ اب تو میں گرفتار ہو جاؤں گا . کتاب میں لکھا ہے کہ وہ اس وقت اپنے گھوڑے پر جھکے اور اس کی پیشانی پر محبت کا ہاتھ پھیر کر گھوڑے سے کہا اے گھوڑے تو تھوڑی دیر کیلئے میرا ساتھ دے دے ورنہ میں نبیﷺ کے روضے پر جا کر تیری شکایت کروں گا جب انہوں نے یہ الفاظ کہے تو وہ گھوڑا ہنہنایا اور

ایسے دوڑا جیسے کوئی تازہ دم گھوڑا دوفتا ہے اس طرح وہ گھوڑا ان کو کفار کے نرغے سے نکال کر باہر لے گیا .

ضرور پڑھیں: گھوڑ تھک چکا ہے

سبحان اللہ کچھ وقت کے بعد وہ گرفتار ہو گئے جب حضرت خالد بن ولید نے دیکھا کہ حضرت ضرارؓ گرفتار ہو چکے ہیں تو وہ بڑے حیران ہوئے اتنے میں کچھ سوار ان کے پاس آ کر کہنے لگے کہ ہمیں ضرار کے پیچھے جانا چاہئے تاکہ ہم ان کو آزاد کرواکر لائیں. بزرگوں سے محبت باعث مغفرت کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک آدمی فوت ہو گیا. اللہ تعالیٰ نے اس کی بخشش فرما دی اس نے پوچھا‘ اے پروردگار عالم! آپ نے مجھے کس عمل کی وجہ سے بخشا؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میرے بندے تیرا ایک عمل تیرے نامہ اعمال میں ایسا ہے کہ جس کی وجہ سے میں نے بخش دیا ہے اس لئے کہااے اللہ! میرے تو سارے اعمال ہی خراب ہیں میں غافل اور بدکار تھا آپ کو میرا کون سا عمل پسند آیا؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا‘ تیرے نامہ اعمال میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ولی بایزید بسطامی راستے میں جا رہا تھا‘ تمہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ کون ہے؟ تم نے کسی سے پوچھا اس نے کہا یہ بایزید بسطامی ہیں تم نے پہلے سن رکھا تو تھا کہ وہ اللہ کے دوستوں میں شمار ہوتے ہیں لہٰذا تم نے محبت سے میرے ولی پر نظر ڈالی تھی میں نے اسی ایک نظر کے ڈالنے کی برکت سے تمہارے گناہوں کی بخشش فرما دی.

..

Top