single photo

کروڑوں روپے کا غبن ۔۔۔۔ پرویز خٹک بھی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ، ثبوت سامنے آتے ہی عمران خان بھی غصے میں آگئے

پشاور(قدرت روزنامہ) میڈیا ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سابق دورِ حکومت کا ایک بڑا مالی اسکینڈل سامنے آ یا ہے جو کہ صوبہ خیبر پختونخواکی صوبائی حکومت سے متعلق ہے . بتایا جا رہا ہے کہ یہ اسکینڈل خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے دور سے متعلق ہے .

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کی سابقہ حکومت نے 2017ء میں ڈینگی وبا پر قابوپانے کے لیے70 کروڑ روپے کا سامان اور ادویات خرید یں تھیں، تاہم بعد کی تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ سامان اور ادویات سراسر غیر معیاری تھیں.خیبر پختونخواہ حکومت نے الاپتگین نامی جس کمپنی سے ادویات اور سامان خریدا تھا. وہ کمپنی خود کو ڈبلیو ایچ او (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کا مستند ڈیلر قرار دیتی تھی.مگر نیب کی تحقیقات سے پتا چلا کہ ادویات اور سامان امپورٹ کرنے کا دعویٰ کرنے والی یہ کمپنی فراڈ ہے، ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے اس کی طرف سے جو دستاویزات پیش کی گئی تھیں، وہ بھی بعد ازاں جعلی قرار پائیں.واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں 2017ء کے دوران ڈینگی کی وبا پھُوٹ پڑی تھی جس کے باعث پانچ ہزار افراد اس خطرناک وبا کا شکار ہوئے تھے جن میں سے 60 سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے. اس وبا پر قابو پانے کے لیے پرویز خٹک کی صوبائی حکومت نے 145 ملین کی رقم مختص کی تھی. جس میں سے 70 ملین کی رقم الاپتگین نامی کمپنی کو ڈینگی سے متعلق ادویات اور سامان کی مد میں فراہم کی گئی تھی.تاہم بعد میں پتا چلا کہ یہ تمام ادویات غیر معیاری ہیں اور ٹھیکہ دینے میں بھی شفافیت کو مدنظر نہیں رکھا گیا. اس معاملے سے متعلق دستاویزات کے مطابق محکمہ صحت نے ایک ایسی کمپنی کو ٹھیکہ دیا جو مطلوبہ معیار پر پُورا نہیں اُترتی تھی. اس سکینڈل کے سامنے آنے پر نیب ذرائع نے سابق ڈی جی ہیلتھ سمیت دیگر افسران کے خلاف ریفرنس تیار کرلیا گیاہے. تاہم ابھی تک یہ بات سامنے نہیں آ سکی کہ کمپنی کو غیر قانونی طور ملنے والے اس ٹھیکے میں کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت کا بھی کوئی کردار تھا یا نہیں.

..

Top