single photo

چئیرمین سینیٹ کا عہدہ بھی خطرے میں پڑ گیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے پر متفق ہوگئی ہیں یہ اتفاق گزشتہ دنوں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف کے مابین ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا . اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صادق سنجرانی گزشتہ سال پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی حمایت سے چیئرمین سینیٹ بنے تھے تھے .

ضرور پڑھیں: چئیرمین سینیٹ کے معاملے پر فیصل واوڈا کی 9 جولائی کو کی گئی پیشن گوئی درست ثابت

صادق سنجرانی کو 57 ووٹ جب کہ ن لیگ کے راجہ ظفر الحق کو 46 ووٹ ملے تھے.تاہم ن لیگ اس وقت بھی سینٹ میں سب سے بڑی جماعت ہے.ن لیگ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ایف کے سینٹ میں 46 ارکان ہیں.29 آزاد سینیٹرز جن میں سے بیشتر کا تعلق ن لیگ کے ساتھ ہے.جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے دو سینیٹرز ہیں اور اے این پی، فنکشن لیگ اور عوامی پارٹی کا ایک رکن ہے. اگر بات کریں حکومت کی تو پی ٹی آئی ارکان کی تعداد 14 ہے.

متحدہ قومی موومنٹ کی پانچ جبکہ جماعت اسلامی کے ارکان کی تعداد دو ہے.چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے 53 ارکان کی حمایت درکار ہوگی.جو پاکستان مسلم لیگ ن ،پیپلز پارٹی جے یو آئی(ایف) اور دیگر اپوزیشن جماعتیں مل کر آسانی سے پورا کر سکتے ہیں.اے این پی پہلے ہی چئیرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تجویز دے چکی ہے. عوامی نیشنل پارٹی نے بلاول بھٹو اور مریم نواز کو چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تجویز دی تھی.پیر کو اپنے بیان میں زاہد خان نے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں ملکر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹائیں. انہوںنے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں ملکر صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تحریک لائیں. صادق سنجرانی کو ہٹانے کے بعد چیئرمین سینیٹ کے لئے متفقہ امیدوار لایا جائے. انہوںنے کہاکہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانا ناگزیر ہے.بلاول بھٹو اور مریم نواز حکومت مخالف تحریک کے لئے سنجیدہ ہیں تو چیئرمین سینیٹ کو ہٹائیں.

انہوںنے کہاکہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے معاملے پر اے این پی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کھڑی ہوگی.اہ اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد بحال کروانے کے لئے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانا ہوگا.انہوںنے کہاکہ چیئرمین سینیٹ کو نہ ہٹایا گیا تو عوام بلاول بھٹو اور مریم نواز پر اعتماد نہیں کرے گی.زاہد خان نے کہاکہ حکومت مخالف تحریک کی شروعات چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے سے کی جائےواضح رہے چئیرمین سینیؤٹ سینٹ کو چلانے کے لیے چیئرمین کی اہمیت ہونے کے علاوہ صدر پاکستان کی غیر موجودگی میں قائم مقام صدر کا عہدہ بھی سنبھال سکتے ہیں

..

ضرور پڑھیں: چئیرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے فوری بعد اسلام آباد پر دھاوا بولنے کا اعلان

Top