single photo

پیراگون ہاﺅسنگ سکینڈل ،خواجہ برادران کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

لاہور(قدرت روزنامہ)لاہور ہائیکورٹ نے پیراگون ہاﺅسنگ سکینڈل میں گرفتار خواجہ برادران کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا . تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں پیراگون ہاﺅسنگ سکینڈل میں خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی ،خواجہ برادران کے وکلا اور نیب پراسیکیوٹر عدالت میں پیش ہوئے،نیب وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ برادران نے ڈیبونیئر پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنا کر ہاؤسنگ سکیم بنائی ، 30 جون 2000 میں ڈیبیوئیر فرم بنائی گئی، نیب وکیل نے کہاکہ 2000میں خواجہ برادران کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ کیس کی انکوائری شروع ہوئی،گیارہ اگست 2003 کو ایئر ایوینیو کو پیراگون میں تبدیل کر دیا گیا ،

نیب وکیل نے کہا کہ خواجہ برادران کے 49 ملین کے بانڈز نکلنے پر انکوائری بند کردی گئی،خواجہ سعد رفیق اور ان کی اہلیہ پیچھے رہ کر کاروبار کرتے رہے،خواجہ برادران ہی پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کے کرتا دھرتا ہیں .

ضرور پڑھیں: پیراگون ہاﺅسنگ سکینڈل کیس ،احتساب عدالت نے خواجہ برادران کی بریت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا

وکیل خواجہ برادران نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ندیم ضیااورقیصرامین بٹ دوست ہیں پارٹنرنہیں،قیصرامین بٹ کا2بارجوڈیشل مجسٹریٹ کےسامنے بیان دلوایاگیا،نیب نے قیصرامین کے بیان کوپہلے مستردکروایاپھرمرضی کابیان دلوایا،وکیل صفائی نے کہا کہ قیصرامین کومعافی دےکر واپس لی گئی اوردوبارہ بیان ریکارڈکرایاگیا،عدالت نے استفسار کیا کہ دوسری بارقیصرامین بٹ کابیان لینے کی وجہ کیاتھی؟

وکیل خواجہ برادران نے کہا کہ پہلا بیان چیئرمین نیب کی مرضی کانہیں تھا،3سال خواجہ برادران کےخلاف انکوائری چلی،انکوائری کسی پرائزبانڈکی وجہ سے بندنہیں ہوئی، انکوائری نیب نے بندکرتے ہوئے اس وقت معذرت بھی کی تھی،عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل پر ہونے پر عدالت نے پیراگون ہاﺅسنگ سکینڈل میں خواجہ برادران کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا.

..

ضرور پڑھیں: پیراگون ہاﺅسنگ سکینڈل،خواجہ برادران کی ضمانت کی درخواستوں پروکلا حتمی بحث کیلئے 27 مئی کو طلب

Top