single photo

نااہلی کیس: پشاور ہائیکورٹ سے عمران خان کے حوالے سے بریکنگ نیوز آ گئی

پشاور(قدرت روزنامہ)پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس قیصر رشید اورجسٹس محمد ابراہیم خان پر مشتمل بنچ نے وزیر اعظم عمران خان کی نااہلی کیلئے دائررٹ درخواست پر عمران خان اور الیکشن کمیشن سے تین ہفتوں کے اندر اندر جواب طلب کرلیا . فاضل بنچ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 35سے جولائی کے انتخابات میں پاکستان جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار انعام اللہ کی جانب سے دائر رٹ کی سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیاکہ وزیر اعظم عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیوی بشری بی بی کے اثاثے ظاہر نہیں کئے جو کہ آرٹیکل 62اور63کیخلاف اوراسی بناء پر عمران خان کا اس حلقہ سے انتخاب کالعدم قراردینے کے ساتھ ساتھ اسے بطور ممبر قومی اسمبلی نااہل قراردیاجائے کیونکہ آئین میں یہ واضح لکھا گیا ہے کہ جو شخص بھی آڑٹیکل 62اور63 پر پورا نہیں اترتا اس لئے وہ کسی بھی عہدے کیلئے نااہل ہے .

یاد رہے کہ پاناما لیکس کے مقدمے میں وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف عمران خان اور سراج الحق کی درخواست یہی تھی کہ چونکہ نواز شریف نے نہ صرف اپنے اثاثے چھپائے بلکہ انھوں نے پارلیمان اور قوم سے خطاب کے دوران جھوٹ بولا اس لیے وہ آئین کے عوامی نمائندگی ایکٹ کے آرٹیکل 62 ایف ون کے تحت صادق اور امین نہیں رہے لہذا انھیں نااہل قرار دیا گیا . وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف دائر درخواستوں میں درخواست گزاروں کا موقف یہ تھا کہ جائیدادوں کے بارے میں ثبوت پیش کرنا مدعا علیہان کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ ثبوت نہ دے سکیں تو پھر وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا جائے جبکہ اس کے برعکس عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دائر درخواستوں میں ان دونوں رہنماؤں کا موقف ہے کہ بار ثبوت درخواست گزاروں پر ہے اور اگر وہ ثبوت نہ دے سکیں تو ان درخواستوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے . پاناما کیس کی سماعت کے دوران عمران خان نے عدالت سے کہا تھا کہ اپوزیشن کا کام تو الزام لگانا ہے جبکہ ثبوت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے . عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف درخواستوں میں درخواست گزار اور حکمراں جماعت کے رہنما حنیف عباسی کے وکیل بھی جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے رہے کہ بار ثبوت کسی چیز کی ملکیت تسلیم کرنے والے پر ہوتا ہے . جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اسی پانچ رکنی بینچ کی سربراہی کی تھی جن میں سے ان سمیت دو ججوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا . عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف ان درخواستوں کی سماعت کے دوران وکلا کے دلائل سننے کے بعد یقین نہیں ہوتا تھا کہ یہ وہی وکلا ہیں جو وزیر اعظم کے خلاف درخواستوں میں اس کے برعکس دلائل دے رہے تھے . عمران خان کے خلاف درخواستوں کی سماعت میں ان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 183 کی سب سیکشن تین کے تحت عوامی نمائندگی ایکٹ اس زمرے میں نہیں آتا کیونکہ اگر ایسا کیا گیا تو نااہل ہونے والے رکن قومی اسمبلی کے پاس اپیل کا حق ختم ہو جائے گا . نواز شریف کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ جب تک عدالت عظمیٰ نواز شریف کو نااہل قرار نہیں دیتی اس وقت تک ان کے خلاف کارروائی کے لیے متعلقہ محکمے کو احکامات جاری کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا . نعیم بخاری بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ وکیل کبھی نہیں ہارتا ہمیشہ موکل ہارتا ہے .

. .

Top