single photo

خان اگلی بار پھر آئے گا یا نہیں ۔۔۔۔۔؟ دوسرے شہر کے سفر کے دوران ایک نامور صحافی نے ٹرک کے پیچھے کیا لکھا دیکھا اور اس جملے پر موصوف کی بیوی نے کیا رائے دی ؟ آپ بھی جانیے

لاہور (قدرت روزنامہ)کہتے ہیں نئی فصل کا میوہ ہمیشہ سخی کے ہاتھ سے کھاؤ، اگر بخیل کے ہاتھ سے کھایا تو پھر ساری زندگی نصیب نہ ہو گا . نوید میاں کار خرید کر لے گئے تو ہونا چاہئیے تھا کہ شہزادہ اور شہزادی چین کی زندگی گزارنے لگتے .

پر شہزادے اور شہزادی کی طبیعت میں چہل آئی کہ نامور کالم نگار شاہد ملک اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں . . . . . . . . کل منگل کو اسکول میں امتحانات کی چھٹی ہے . کیوں نا بیگم صاحبہ کی گاڑی میں بھائی کے پاس گوجرانوالہ چلیں . کار کی فروخت پہ بھائی کا شکریہ بھی ادا کر دیں گے اور رمضان کی پہلی صبح کا میوہ بھی سخی کے ہاتھ سے ملے گا . ایک حرکت یہ بھی ہوئی کہ گھر سے نہر کا راستہ پکڑنے سے پہلے پسندیدہ میوزک ڈائرکٹر نوشاد علی کے نیم کلاسیکی فلمی گانوں کی سی ڈی لگا لی . یہ فُل عیاشی پروگرام عہدِ رفتہ کو آواز دینے کے لئے تھا . اب جی ٹاپو ٹاپ جا رہے ہیں کہ کالا شاہ کاکو پر ایم ٹو سے اتریں گے اور آگے پون گھنٹے میں گوجرانوالہ کینٹ . نوشاد علی ساتھ ہوں تو مَیں جی ٹی روڈ کے چھوٹے موٹے رش کو خاطر میں نہیں لاتا . پر اُس شام سات بج کر دس منٹ پہ مریدکے سے پہلے جو پروگرام شروع ہوا ہے تو ایسی پرفارمنس نہ پہلے کبھی دیکھی، نہ سنی . کاریں، مسافر بسیں، ٹرک متوازی لائنوں میں تاحدِ نظر کھڑے ہیں . محسوس ہو گیا کہ یہ کوئی چھوٹا موٹا ٹریفک جام نہیں ہے . اِس لئے مہم جُو لوگوں کی نا ہموار اترائیاں اتر کر الٹی سمت میں سروس روڈ پکڑنے کی کوشش اور اِس سے آگے شام کے اندھیروں میں نا آشنا بستیاں، ویرانے اور ندی نالے پار کرنے کی دائرہ در دائرہ تگ و دو منزل کو قریب تر نہیں لا سکتی . ساتھ کھڑی ایک کار کے ڈرائیور نے ہمارے پوچھے بغیر شیشہ نیچے کر کے بتا دیا کہ چند کلو میٹر آگے پیش آنے والے کسی واقعہ پر مقامی باشندے سڑک بند کرکے احتجاج کر رہے ہیں . چلئے چھٹی ہوئی . اللہ معافی دے، جب اپنے بس میں کچھ بھی نہ ہو تو زیادہ چُر چُر کرنے کا فائدہ نہیں ہوتا . یاد آیا کہ انگلستان میں ایک رات نیو پورٹ سے لندن واپسی پر اِس سے ملتی جلتی صورتحال سے پالا پڑا تھا . تب بچے چھوٹے تھے، لہذا سوچ لیا کہ کار میں پٹرول اور فیِڈر میں دودھ ہونا چاہئیے . پیر کی شب حالات زیادہ موافق نکلے . ٹنکی بھری ہوئی تھی اور دو میں سے ایک موبائل فون تازہ دم . دودھ پینے والے بچے تھے ہی نہیں . ہاں، جامد گاڑیوں کے ہجوم میں سے گزر کر بڈھا بڈھی کے لئے پانی کی بوتل اور بسکٹوں کے دو ڈبے خرید لئے جن کے بارے میں حد سے مصروف کھوکھے والے نے خوش دلی سے کہا ”اچھی قسم کے ہیں“ . اِس حوصلہ افزائی سے شہ پا کر ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ ہو جائے مُوڈ اچھا رکھنا ہے . زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ سحری یہیں ہو جائے . تو بھئی ہو جائے . سحری تو وہاں نہ ہوئی، لیکن قبولِ دعا کی اس گھڑی میں خوشگوار واقعات رونما ہونے لگے . آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ ٹریفک کو جنبش ہوئی اور گاڑیاں مرید کے اور اس سے آگے سادھوکی کے رُخ پہ سرکنے لگیں . نئیں بھاجی، ایہہ گل نئیں . ٹریفک میں حرکت تو پورے اڑھائی گھنٹے گزر جانے پہ ہوئی اور پھر لاہور سے گوجرانوالہ تک کُل ساڑھے چھ گھنٹے کی مسافت میں جگہ جگہ وہ حال کہ ’ کیا لطف جنازہ اٹھنے کا ہر گام پہ جب ماتم نہ ہوا‘ . ہمارے گردو پیش دو باتیں البتہ بہت ہمت افزا تھیں . ایک تو اِس طویل آزمائش کے دوران کوئی فالتو ہارن نہ بجا، جو حیران کُن ہے . دوسرے دائیں بائیں کم و بیش سب گاڑیوں نے انجن مسلسل اسٹارٹ رہنے دئے اور مدھم روشنیاں جلائے رکھیں جس سے تکمیلِ سفر کی آس نہ ٹوٹنے پائی . پھر بھی جن خوشگوار واقعات کا اشارہ اوپر دے چکا ہوں، اُن کا تعلق دیگر عوامل سے نہیں، بسوں، ٹرکوں، ویگنوں اور چنگچیوں کے زورِ سخن سے تھا . اولین نمونہء کلام کی نشاندہی بیگم نے عین اُس وقت کی جب مَیں نوشاد علی والی سی ڈی تیسری مرتبہ آن کرنے لگا تھا . کیا دیکھا کہ ایک ٹرک کی پشت پہ لکھا ہے ’خان پھر آئے گا‘ . میرے منہ سے چچا تپش برنی کے انداز میں نکلا ’صاحب، لہجے کی شاعری ہے‘ . ساتھ ہی جنرل ایوب خان کے زوال کے پس منظر میں راولپنڈی سے ایبٹ آباد جانے والی مسافر ویگنوں پر اُن کی باوردی تصویر میری آنکھوں میں گھومنے لگی جس کے نیچے درج یہ مصرع ہماری روڈ ٹرانسپورٹ پر شعری تحریک کا نکتہء آ غاز تھا کہ ’تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی‘ . جوں جوں مزید نمونے جمع ہوئے، یہ خیال تقویت پکڑنے لگا کہ ہماری شاعری کی مذکورہ صنف محض سیاسی محرومیوں کے شعوری اظہار تک محدود نہیں رہی . اب یہ سیاسی شعور ہمارے تمدنی پیرایوں میں گھُل مل گیا ہے . شعر ملاحظہ ہو:سڑکاں اتے چلن لاریاں . . چوکا ں وچ سپاہی . . ہر موڑ تے لوکی پچھن . . پینٹھ ترتالی کیوں نئیں آئی . . ہو سکتا ہے کہ آپ لاہور کے اُس یونیورسٹی پروفیسر کے طر فدار ہوں جنہوں نے اپنے دو شعری مجموعوں کی اشاعت سے فارغ ہو کر ایک دن انکشاف کیا ’کل افتخار عارف کہہ رہے تھے کہ شاعری میں ایک چیز ہوتی ہے جسے وزن کہتے ہیں‘ . اوزان کی پابندی اور نثری نظموں کی بحث تو ابھی کچھ عرصہ چلتی رہے گی . لیکن ٹریفک کی روانی بحال ہونے پر گوجرانوالہ کینٹ پہنچنے سے پہلے پہلے ہم نے ’خان‘ والے ٹرک کی طرح ایک مسافر ویگن پر لہجے کی شاعری کا ایک اور نمونہ تلاش کر لیا تھا: کاش آپ ہمارے ہوتے . . صدقہ پنجتن پاک . (ش س م)

. .

Top