single photo

بھریا اس دا جانیے جس دا توڑ چڑھے : حرم پاک کے صحن میں ایک عرب ملک کی خاتون اپنے چھوٹے سے بچے سے بار بار کیا دعا کروا رہی تھی ؟ ایک دل چھو لینے والی تحریر

لاہور (قدرت روزنامہ) پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماں سے اپنی محبت کے اظہار کا دن منایا جاتاہے، جس کا مقصد مائوں کی عظمت کا اعتراف اور انہیں خراج تحسین پیش کرنا ہے . ماں شفقت، خلوص ، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے .

ماں دْنیا کا وہ پیارا لفظ ہے نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں . . . . . . . جس کو سوچتے ہی ایک محبت ، ٹھنڈک ، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے . اس کا سایہ ہمارے لئے ٹھنڈی چھائوں کی مانند ہے . چلچلاتی دھوپ میں اس کا دستِ شفقت شجرِسایہ دار کی طرح سائبان بن کر اولاد کو سکون کا احساس دلاتا ہے . اس کی گرم گود سردی کااحساس نہیں ہونے دیتی . خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہے ، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اور دْنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے اِس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دْنیا میں پیدا نہیں ہوئی ،آندھی چلے یا طوفان آئے، اْس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی . نیک عورت دنیا میں جنت کا انعام ہے اور شر پسند عورت فتنہ ہے . اللہ سبحان تعالیٰ نے بندوں سے اپنی محبت کو ماں کی محبت سے تشبیہ دے کر ماں کو عظیم اعزاز سے نواز دیا . ماں کو بھی چاہیے کہ وہ خدا کی محبت کے معیار کا فہم حاصل کرے . اپنے اندراعلیٰ صفات پیدا کرے . اپنی دنیا کو اپنی اولاد اور مائیکہ والوں تک محدود نہ رکھے . ماں ایک عظیم رتبہ ہے جس کے پیروں تلے جنت ہے . ماں کے مقام اور حقوق سے متعلق لیکچرز دیئے جاتے ہیں لیکن مائوں کو بھی ان کے مقام کا شعور ہونا چاہئے . ماں اپنی ذمہ داریاں ادا کئے بغیر رب راضی نہیں رکھ سکتی . ایک ماں کی آخرت اس کی اولاد سے منسلک ہے . اولاد کی نیک تعلیم و تربیت کرنا اسے منزل مقصود تک پہنچانا ایک ماں کا اولین فریضہ ہے اور اس پل صراط کو عبور کئے بغیر ماں کی نجات نہیں . پیروں تلے جنت ہے تو آزمائش اور امتحان بھی عظیم ہے . ایک بہترین ماں فجر کے وقت بیدار ہوتی ہے . نماز کی ادائیگی کے بعد اپنے بچوں کو پاکیزہ ہاتھوں سے کھلاتی پلاتی ہے . سکول بھیجتی ہے . قرآن اور دینی تعلیم دیتی ہے . پانچ وقت نماز میں اپنے بچے کو اپنے ساتھ کھڑا کرتی ہے . اخلاقی تربیت کرتی ہے . شوہر اور اس کے خاندان کے ساتھ ادب سے پیش آتی ہے تاکہ بچہ ماں کے عمل سے رشتوں کا احترام سیکھ سکے . ملازموں سے نرم رویہ اختیار کرتی ہے . مہذب لباس پہنتی ہے تا کہ بچہ کبھی یہ نہ کہہ سکے کہ اس کی ماں چست اور برہنہ لباس پہنا کرتی تھی . ماں بچے کی رول ماڈل ہوتی ہے . جو کرے گی اس کا بچہ بھی اس کی نقل کرے گا . شوہر کی بہن سے دوستانہ رویہ رکھے . خالہ کو پھوپھی پر یا نانی کو دادی پر ترجیح دینے سے بچے کو رشتوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے جس سے بچے کے ذہن میں کئی سوال جنم لیتے ہیں . رشتوں میں تقسیم بچوں کے معصوم ذہن پر برے اثرات مرتب کرتی ہے . ایک مکمل ماں اپنے بچے کی صحت مند شخصیت کے لیے منفی رویوں کا گلہ گھوٹ دیتی ہے . بچے کو گھریلو جھگڑوں سے الگ رکھتی ہے . کم ظرف ہے وہ عورت جو اپنے بچے کے سامنے اس کے باپ یا ددھیال کی برائیاں کرے . ایسی احمق ماں اپنے ہی بچے کا نقصان کر تی ہے . حرم شریف میں ہمارے قریب ایک خاتون بیٹھی اپنے بچے سے اس کے نانا اور ماموں کے لیے دعا کرا رہی تھی’ اللہ جی میرے نانا ابو اور ماموں جان کو زندگی دے اور بچہ ماں کے ساتھ دعا دہرا رہا تھا . تین چار بار جب دعا دہرا چکا تو ہم سے نہ رہا گیا بالآخر پوچھ ڈالا’’ اس کا دادا اور تایاچاچا حیات ہیں ؟ ان غریبوں کے لیے بھی دعا کرا دو، آخر یہ معصوم ان کا خون ہے . چندہ ماموں ، نانا ابو ، نانی امی، خالہ کے علاوہ بھی رشتے ہوتے ہیں لیکن کم ظرف خواتین مہنگے تحائف اپنے مائیکہ کے لیے خریدیںگی اور سستے سیل پر لگے سسرال والوں کے لیے خرید لائیں گی . کمائی سسرال کے لڑکے کی اور خرچ اپنی ماں بہنوں پر ہو رہی ہے . بد دیانت اور غیر منصفانہ رویہ والی عورت ممتا کے ساتھ بھی انصاف نہیں کر سکتی . عورت اپنے شوہر کے والدین کو برداشت کر لے تو یقین کیجئے ہر بیٹا اپنے والدین کا فرمانبردار ہے . والدین سے محبت کرتا رہے . بڑھاپے میں اپنے والدین کے ساتھ رہنا چاہتا ہے . اپنی بہنوں کے لاڈ نخرے اٹھانا چاہتا ہے . بحیثیت بیوی حسد جلن اپنی جگہ لیکن ماں بننے کے بعد رحیم و حلیم ہونے کی کوشش کرے . ممتا نام ہی نرم دلی اور رحم دلی کا ہے . اللہ سبحان تعالیٰ جو کہ رحیم و کریم ہے،اپنی ربوبیت کی مثال ممتا سے دیتا ہے . ماں کو مقام عالی پر فائز دیکھتا ہے . اگر ماں اپنی دینی و دنیاوی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرے گی تو تمام عبادتیں دھری کی دھری رہ جائیں گی . سب سے افضل عبادت اولاد کو نیک و صالح بنانا ہے . یہ ایک طویل عمل اور مجاہدہ ہے . پانی بھرن سہیلیاں رنگا رنگ گھڑے . . بھریا اس دا جانیے جس دا توڑ چڑھے . . یعنی سب سہیلیاں رنگین گھڑے لے کر پانی بھرنے جا رہی ہیں لیکن کامیاب وہی کہلائے گی جو پورا گھڑا بھر کر منزل تک پہنچ سکے . روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا ’’یارسول اللہ !میرے حْسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ‘‘؟ . فرمایا ’’تیری ماں ‘‘ پوچھا ’’پھرکون‘‘ فرمایا . . ’’ تیری ماں ‘‘ اْس نے عرض کیا . . ’’پھر کون ‘‘ . فرمایا . . ’’تیری ماں‘‘ تین دفعہ آپ نے یہی جواب دیا . چوتھی دفعہ پوچھنے پر ارشاد ہوا . ’’تیرا باپ ‘‘ . دینِ اسلام میں ماں کی نافرمانی کو بہت بڑا گناہ قرار دیاگیا ہے کیونکہ ماں وہ ہستی ہے جس نے بچوں کو اپنا دودھ پلا پلا کر پالا پوسا ، اْن کی پرورش میں اپنی ہر راحت قربان کی ، اپنا ہر آرام ترک اور اپنی ہر خواہش نثار کردی . (ش س م)

. .

Top