نیوزی لینڈ میں مساجد حملے پر نسل پرست بیان دینے والے آسٹریلوی سینیٹر کو بدترین تذلیل کا سامنا کرنا پڑ گیا

سڈنی(قدرت روزنامہ) نیوزی لینڈ میں مساجد حملے پر نسل پرست بیان دینے والے آسٹریلوی سینیٹر کو مسلسل سخت عوامی ردعمل کا سامنا، ہفتے کے روز ایک نوجوان کے ہاتھوں انڈہ کھانے کے بعد نسل پرست آسٹریلوی سینیٹر کو ائیرپورٹ پر بھی شہریوں کے ہاتھوں بدترین تذلیل کا سامنا کرنا پڑا . تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع مساجد پر ہونے والے حملے کے بعد ایک آسٹریلوی سینیٹر کی جانب سے شرمناک اور نسل پرستانہ بیان دیے جانے پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا خون کھول اٹھا تھا .


ضرور پڑھیں: گذشتہ دو دن مسلم ممالک کے لیے بدترین دن ثابت ہوئے

بلکہ آسٹریلیا کی ہی عوام کی جانب سے بھی شدید احتجاج کیا گیا. اس بیان کے بعد سے آسٹریلوی سینیٹر فراسر ایننگ کو مسلسل شدید

تذلیل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. اب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں آسٹریلوی سینیٹر فراسر ایننگ کو ائیرپورٹ پر ایک شخص کی خوب لعن طعن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. ویڈیو میں ایک شخص آسٹریلوی سینیٹر فراسر ایننگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ کیا تمہیں کرائسٹ چرچ حملے کا کوئی غم نہیں؟ کیا تم نے جو نسل پرستانہ بیان دیا، اس پر تمہیں کوئی شرمندگی نہیں؟ آسٹریلوی سینیٹر فراسر ایننگ کی جانب سے کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار نہ کرنے پر آسٹریلوی شخص نے کہا کہ تمہیں شرم آنی چاہیئے، تم ایک بزدل شخص ہو.

..

ضرور پڑھیں: انڈیا میں کورونا نے تباہی مچا دی، بھارت دنیا کا بدترین خطہ قرار


Top