نئی دہلی : آج کرتاپورراہداری کے پاک بھارت مذاکرات کے دوران کس بات پر شدید تلخ کلامی ہوئی ؟ اورجیت کس کی ہوئی ؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

نئی دہلی : آج کرتاپورراہداری کے پاک بھارت مذاکرات کے دوران کس بات پر شدید تلخ کلامی ہوئی ؟ اورجیت کس کی ہوئی ؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی


نئی دہلی(قدرت روزنامہ)پاک بھارت امن مذاکارت کا آج پہلا دور ہوا ، جو کہ کرتارپور راہداری کے حوالے سے تھا ، کرتارپورراہداری پر پاک بھارت مذاکرات کی اندرونی کہانی دنیا نیوز سامنے لے آیا ہے. روزانہ کتنے سکھ یاتری پاکستان آئیں گے؟ ٹرانسپوٹیشن کا ذریعہ کیا ہو گا؟ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ختم نہ ہو سکے، ذرائع کے مطابق پاکستان نے روزانہ کی بنیاد پر 500 سکھ یاتریوں کی کرتارپور آمد کی پیشکش کی ہے جبکہ بھارت 5000 سکھ یاتریوں کو آمد کی اجازت دینے پر بضد ہے، اس پر آج تلخ کلامی بھی ہوئی ، پاکستان کا موقف ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر انتظامات میں دشواریاں ہو سکتی ہیں.

دونوں ملکوں کے درمیان ذرائع آمدورفت پر بھی اختلافات ہیں، پاکستان چاہتا ہے کہ سکھ یاتری بسوں میں پاکستان آئیں جبکہ بھارت یاتریوں کے پیدل پاکستان آنے کا خواہاں ہے. بھارت کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنا آیا ہے کہ پاکستان سکھ یاتریوں کےعلاوہ ہندواور دیگر مذاہب کے افراد کو بھی کرتارپور آنے کی اجازت دے. پاکستان نے واضح کیا کہ کرتارپور صاحب صرف اور صرف سکھوں کے لیے کھولا جا رہا ہے،یاد رہے کہ کرتارپور راہداری پر پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا، ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پہلے دور میں مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے ، دوسرا مرحلہ دو اپریل کو واہگہ میں ہوگا، ڈی جی جنوبی ایشیا و سارک ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارتی وفد سے مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے، دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی امور پر بھی ماہرین کا اجلاس ہوا، ڈی جی جنوبی ایشیا و سارک نے کہا کہ ٹیکنیکل معاملات پر بھی بھارت سے معاملات طے ہوں گے، بھارت کی جانب سے کرتارپور راہداری پر کافی تعمیراتی کام ہو رہا ہے ، مذاکرات کا دوسرا مرحلہ 2اپریل کو ہوگا، ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارت کیساتھ ایک لمبے عرصے بعد مشترکہ بیان جاری کیا جا رہا ہے ، مشترکہ اعلامیہ جاری ہونا ایک بڑی کامیابی ہے ، اس سے قبل بھارتی روانگی سے قبل ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ امید ہے اس سے دونوں ممالک میں اچھی تبدیلی آئے گی، ڈاکٹر فیصل نے اپنے جذبات کا اظہار ایک شعر میں کیا، ایک شجر ایسا بھی محبت کا لگایا جائے، جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایہ جائے، بھارت روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف کی ہدایت پر مثبت پیغام لے کر بھارت جا رہے ہیں، ڈی جی جنوبی ایشیا و سارک ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا پاکستان نے پہل کرتے ہوئے کرتارپور راہداری کھولنے کی اجازت دی ہے، جہاں سکھ برادری کے روحانی پیشوا بابا گرونانک نے اپنی زندگی کے اٹھارہ سال گزارے، دوسری جانب خبر یہ ہے کہ بھارت کی وزیرخارجہ سوشما سوراج نے کہا ہے کہ انھوں نے متعدد ملکوں تک یہ بات پہنچادی ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت ، پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتا، لیکن اگر پلوامہ جیساکوئی اور دہشتگرد حملہ ہوا تو پھر بھارت خاموش نہیں رہے گا.مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک مقامی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی خاتون وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خدشہ تھا کہ بھارت پلوامہ واقعے کے بعد کشیدگی میں اضافہ کریگا، سوشما سوراج نے کہا کہ اس حوالے سے ان سے کئی ملکوں کے وزرا خارجہ نے رابطہ کیا تھا.

..

مزید خبریں :

Load More