ماں آخر ماں ہوتی ہے : جب میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تو عمران خان میرے گھر تعزیت کے لیے آئے اور مجھے اپنی والدہ کا ایک یادگار واقعہ سنا یا ۔۔۔۔ توفیق بٹ کی ایک آنکھیں نم کر دینے والی تحریر - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

ماں آخر ماں ہوتی ہے : جب میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تو عمران خان میرے گھر تعزیت کے لیے آئے اور مجھے اپنی والدہ کا ایک یادگار واقعہ سنا یا ۔۔۔۔ توفیق بٹ کی ایک آنکھیں نم کر دینے والی تحریر


لاہور(قدرت روزنامہ) اپنی ماں جی کی آٹھویں برسی پر لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں، میں عرض کررہا تھا والدین کی دعائیں کبھی ردنہیں ہوتیں، اور کبھی اولاد کے لیے مانگی جانے والی کوئی دعا ردہوبھی جائے اس میں کوئی نہ کوئی ایسی مصلحت اللہ کی طرف سے ضرور ہوتی ہے نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ..

.......جو اولاد کے حق میں ہوتی ہے مگر والدین اس سے لاعلم ہوتے ہیں ، میں والدین کی دعاﺅں کے نتیجے میں ہونے والے معجزوں کا ذکر کررہا تھا، میری زندگی ایسے معجزوں سے بھری پڑی ہے، میں کل اپنے ایک عزیز دوست سے کہہ رہا تھا ”میری زندگی میں اچھے لوگوں کی کوئی کمی نہیں، میں اِس نعمت کو بھی والدین کی دعاﺅں کا معجزہ ہی سمجھتا ہوں. ورنہ ہرشخص آج کل یہ شکوہ کررہا ہوتا ہے لوگ بہت بُرے ہیں ، یہ الگ بات ہے یہ شکوہ کرتے ہوئے وہ اپنے بارے میں نہیں سوچتا وہ کیسا ہے ؟. والدین کے رشتے کی اس سے بڑی عظمت کیا ہوسکتی ہے آپ والدین کی خدمت کریں نہ کریں، اُن سے محبت کریں نہ کریں، اُن کی عزت کریں نہ کریں، اُن کی دعائیں اِس کے باوجود آپ کے ساتھ رہتی ہیں . عموماً یہ کہا اور سمجھا جاتا ہے اور یہ کسی حدتک درست بھی ہے محبت دوطرفہ عمل ہے، ایک فریق دوسرے سے محبت کرتا رہے، دوسرا اُس کی محبت کو مسلسل ٹھکراتا رہے، یہ سلسلہ زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتا. یک طرفہ محبت کا ظرف صِرف اللہ کا ہے، کوئی انسان اللہ کی عبادت کرے نہ کرے، اللہ کو تسلیم کرے نہ کرے، اللہ اِس کے باوجود اُس کے رزق سے لے کر اُس کے باقی معاملات میں اُسے نوازتا چلے جاتا ہے. یا پھر یک طرفہ محبت کا ظرف والدین کا ہے، کوئی بدبخت اور بدقسمت اپنے والدین کی عزت کرے نہ کرے، اُن سے محبت کرے نہ کرے، اُن کی خواہشات کو پیش نظر رکھے نہ رکھے. اُن کے احکامات مانے نہ مانے، والدین ہرصورت میں اُس سے محبت ہی کرتے ہیں ، ہرصورت میں اپنی دعاﺅں سے نوازتے ہی رہتے ہیں ، اِس حوالے سے ممتاز شاعر انور مسعود کی پنجابی نظم ” امبڑی“بڑی خوبصورت اور رُلا دینے والی ہے. میرے مرحوم والدین کی دعائیں اب بھی میرے ساتھ ہیں . بلکہ میں یہ محسوس کرتا ہوں میری زندگی کے ہرشعبے میں الحمدللہ ترقی کا عمل مزید تیز ہوگیا ہے، البتہ میں ایک تڑپ میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہوں، وہ والدین سے محرومی کی تڑپ ہے، اللہ نے ماں کو دنیا میں اپنا دوسرا روپ قرار دیا ہے، اللہ ایک ہے. ماں بھی ایک ہی ہوتی ہے. بڑے سے بڑا رشتہ اِس رشتے کا نعم البدل نہیں ہوسکتا . 2011ءمیں میری امی جان کی وفات پر عمران خان میرے گھر آئے وہ بڑی دیر خاموش بیٹھے رہے. اُن کی آنکھیں نم تھیں. مجھے لگا اُنہیں اپنی ماں یاد آرہی ہے. میرا احساس بالکل درست تھا، ایک دومنٹ خاموش رہنے کے بعد فرمانے لگے ” کرکٹ میں اپنی مصروفیت کی وجہ سے میں اپنی ماں کو اُس کے حق کے مطابق زیادہ وقت نہیں دے سکا. اُن کی خدمت نہیں کرسکا. اِس کمی یا اِس احساس محرومی کو کم کرنے کے لیے میں نے اُن کی یاد میں شوکت خانم ہسپتال تعمیر کروایا، اُن کی یاد ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہے جس کے نتیجے میں مجھے یقین ہے میں چاروں صوبوں میں شوکت خانم ہسپتال بنانے میں کامیاب ہوجاﺅں گا“.….میں نے اُنہیں ایک خط دکھایا، یہ خط میری ماں نے اپنے انتقال سے چند روز قبل میرے نام لکھ کر ایک لفافے میں بند کرکے میری بڑی بہن کو دے دیا تھا ، امی جان کی اچانک وفات کی خبر سُن کر جب بڑی بہن میرے گھر پہنچی تو امی جان کی میت کے قریب سے مجھے اُٹھا کر اندر کمرے میں لے گئیں.پھر ایک لفافہ اپنے بیگ سے نکال کر مجھے دیا، اور بتایا ”چند روز پہلے یہ بند لفافہ امی نے مجھے دیا تھا. اُنہوں نے مجھ سے عہد لیا تھا یہ لفافہ کھولنا نہیں، جس روز تمہیں میرے انتقال کی خبر ملے یہ لفافہ بھائی کو (مجھے) دے دینا،….میں نے وہ لفافہ کھولا اُس میں دولاکھ روپے تھے. ساتھ میرے نام ایک خط بھی تھا، وہ پرانے زمانے کی آٹھ جماعتیں پڑھی ہوئی تھیں. اُن کی لکھائی بڑی زبردست تھی. میرے نام اپنے خط میں اُنہوں نے لکھا تھا ”مجھے پتہ ہے تم نے ہمیشہ حلال کمایا، مجھے نہیں پتہ میری موت کِس روز ہوجائے، ہوسکتا ہے اُس روز بینک بند ہوں، یا ہوسکتا ہے تمہارے پاس اتنی رقم نہ ہو کہ میرے انتقال پر میرے جنازے یا میری تعزیت کے لیے آنے والے مہمانوں کی اپنی روایتی مہمان نوازی کے مطابق تم خدمت نہ کرسکو، یہ دولاکھ روپے میں نے جوڑے ہوئے ہیں ، یہ رقم تم میرے جنازے میں آنے والے یا میری تعزیت کے لیے آنے والے مہمانوں کی خدمت پر خرچ کردینا “. میں نے وہ رقم عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال کے لیے دے دی. ذرا اندازہ لگائیں ماں اپنی اولاد کے لیے کِس قدر فِکر مند ہوتی ہے. جی چاہتا ہے کالم روک دوں، لفظ اب میری آنکھوں سے بہنے لگے ہیں ….میری ماں بڑی عظیم عورت تھی. وہ بزرگوں کی عزت کو ہمیشہ بہت اہمیت دیتی تھیں، میری دو بہنیں ہیں ، میری بہنوں (اپنی بیٹیوں) کے رشتے تلاش کرتے ہوئے اُن کی ایک بڑی ترجیح یہ بھی ہوتی تھی کہ

..

مزید خبریں :

Load More