اب جب خدا نے آپ کو اقتدار دے دیا ہے آپ اعلان کر دیں کہ ہمارے کاروبار ختم اور ان میں کوئی اضافہ نہیں کریں گے۔۔۔۔ کسی دیوانے کے اس مشورے کا میاں نواز شریف نے سالوں پہلے کیا جواب دیا تھا ؟ کیوں نکالا اور کیوں ڈالا کا ایک اور جواب دریافت ہو گیا - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

اب جب خدا نے آپ کو اقتدار دے دیا ہے آپ اعلان کر دیں کہ ہمارے کاروبار ختم اور ان میں کوئی اضافہ نہیں کریں گے۔۔۔۔ کسی دیوانے کے اس مشورے کا میاں نواز شریف نے سالوں پہلے کیا جواب دیا تھا ؟ کیوں نکالا اور کیوں ڈالا کا ایک اور جواب دریافت ہو گیا


لاہور(قدرت روزنامہ) کچھ نہیں بہت سے لوگوں کو میاں نواز شریف کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بے حد دکھ ہے لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میاں صاحب کے لا ابالی پن اور ان کے شاہانہ مزاج اور عادات و اطوار نے انھیں اقتدار میں بھی بہت پریشان رکھا . نامور کالم نگار عبدالقادر حسن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں .

.......ان لوگوں کی باتیں سن کر مجھے اپنے ایک سینئر استاد مرحوم مقبول صاحب کا نثری نوحہ یاد آگیا. مقبول صاحب کا نوجوان بیٹا فوت ہو گیا، ان کے ہاں تعزیت کے لیے حاضری دی تو وہ نوجوان بیٹے کے غم میں نڈھال تھے. انھوں نے کہا کہ اس نے زندگی میں بھی بہت رلایا اور مر کر بھی بہت رلایا.میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے درمیان اقتدار کی جنگ جاری رہی، ایک اقتدار میں تو دوسرا اپوزیشن میں ہوتا . تیسری اور آخری بار بھی میاں نواز شریف پیپلز پارٹی کے اقتدار کا پانچ سالہ دور مکمل کرانے کے بعد اقتدار میں آئے تو پاکستانی مزاج رکھنے والوں نے ان کا پرجوش خیر مقدم کیا. اس کے باوجود کہ وہ میاں صاحب کا اقتدار پہلے بھی دو مرتبہ دیکھ بلکہ بھگت چکے تھے لیکن ماضی کی ان کی اچھی بری حکومتوں کی سب باتوں کو بھلا کر لوگوں کو ان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں اور سیاست میں ان کا ایک نئے جھونکے کی طرح استقبال کیا گیا .ان کے اقتدار کے پہلے دونوں ادوار سے کچھ زیادہ تلخ یادیں وابستہ نہیں تھیں کہ ان کو تیسری بار ناپسند کیا جاتا لیکن ان کے کئی ساتھیوں نے جن میں اکثر غیر سیاسی لوگ تھے اور چند ایک سیاسی بھی تھے جنہوں نے اپوزیشن اور وہ بھی مارشل لاء کی اپوزیشن میں میاں صاحب کے لیے قربانیاں دیں تھیں ان کو تیسرے دور حکومت میں فوراً اپنے نرغے میں لے لیا، وہ سب اس شخص کو اچھی طرح جان پہچان چکے تھے اور اب وہ کوئی غلطی کوئی کوتاہی اور سستی کرنے پر تیار نہیں تھے . ان لوگوں نے میاں صاحب کو اچھی حکومت سے دور اور اپنے مفادات سے قریب کر لیا . میاں صاحب سیاست میں کئی دہائیاں گزارنے کے بعد بھی اپنی سمجھ بوجھ کو استعمال نہ کر سکے کہ ان چالاک اور کاریگر لوگوں سے بچ کر رہ سکتے. انھی چالاک اور ہوشیار لوگوں نے ان کو ملک کے مقتدر حلقوں کے ساتھ ٹکر لینے کا مشورہ دیا اور یہ مشورہ وہ تب تک دیتے رہے جب تک میاں صاحب نے اس پر عمل نہ کر دیا. میاں صاحب کے ہمدردانہ مزاج میں کبھی ہلچل پیدا ہوتی تو وہ کسی بڑے عوامی منصوبے پر متوجہ ہو جاتے . انھوں نے ترنگ میں آ کر کئی ایسے کام کیے جو بالکل غیر روائتی، جارحانہ اور انقلابی تھے مثلاً ان کے پہلے دور میں سندھ کے ہاریوں میں زمین کی تقسیم کرنا کوئی معمولی بات نہیں تھی.ملک میں موٹر ویز اور چائنہ پاکستان راہداری منصوبہ کوئی معمولی منصوبے نہیں تھے. وہ اگر یہ کام سیاسی حکمت عملی اور ملکی اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھنے کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتے اور اس کے صحیح نتائج کا ادراک کر لیتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی. انھوں نے اپنے اقتدار کے تینوں زمانوں میں بڑے بڑے کام کرنے کی کوشش کی . انھوں نے بنیادی اور دیرپا بھلائی کے کئی دوسرے کام بھی کیے جن کا ذکر کرنے کی یہاں نہ گنجائش ہے اور نہ مقصد، عرض یہ کرنا ہے کہ میاں نواز شریف میں سے اگر ’’تجارت‘‘ نکال لی جاتی تو وہ ایک اچھے اور جرات مند حکمران تھے.

..

مزید خبریں :

Load More